اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم قَالَ : اِنَّ الْمُسْلِمَ اِذَا عَادَ اَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتّٰى يَرْجِعَ “ قِيْلَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ! وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ :”جَنَاهَا“۔
ریاض الصالحین (حدیث 362)حضرتِ سیدنا ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہےکہ حضورنبی کریم، رؤف رحیم ﷺ نےارشاد فرمایا:”بیشک جب مسلمان اپنے مسلمان بھا ئی کی عیادت کرتاہے تو واپس آنے تک جنت کے خُرفے میں رہتا ہے۔عرض کی گئی : یارسول اللہ ﷺ !جنت کا خُرفہ کیا ہے؟فرمایا:جنت کے پھل چننا۔
آقاﷺ نے فرمایا؛ مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کیلئے صبح کو جائے تو شام تک اور شام کو جائے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کیلئے استغفار کرتے ہیں اور اس کیلئے جنت میں ایک باغ ہوگا۔ (ترمذی حدیث 971) حضرت سیّدناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے میری عیادت فرمائی اور دعا کی :”اے اللہ!سعد کو شفا عطا فرما،اے اللہ!سعد کو شفا عطا فرما، اے اللہ! سعد کو شفا عطا فرما۔“ (فیضان ریاض الصالحین حدیث 904) حضور نبی کریم،رءوف رحیم ﷺ خود مریضوں کی عِیادت کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ جب عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ بیمارہوئے تو رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کون عبادہ بن صامت کی عیادت کرنے چلے گا؟ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ چل دئیے ، ہم دس سے زائد صحابہ کرام تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں بیمار تھا تو حضور نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میری عِیادت کی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میں تیرے لیے اللہ عزوجل سے پناہ مانگتا ہوں جو اکیلا اور بے نیاز ہے۔ (فیضان ریاض الصالحین حدیث 894) 2 فرامینِ آخری نبی، رسولِ ہاشمیﷺ ہیں: (1) جو مریض کی عیادت کرتا ہے وہ جنّت کے باغات میں بیٹھتاہے، جب وہ کھڑا ہوتاہے تو 70 ہزار فرشتے رات تک اس کے لئے دعا کرتے ہیں۔ (2) جو ثواب کی اُمید پر اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرے ، اسے جہنم سے 70 سال کے فاصلے تک دُور کر دیا جائے گا۔ (شعب الایمان حدیث 9171۔ ابو داوؑد حدیث 3097) حضور ﷺ کی عادتِ کریمہ یہ تھی کہ جب کسی مریض کی عِیادت کو تشریف لے جاتے تو یہ فرماتے: *"لَا بَاْسَ طَہُوْرٌ اِنْ شَاۤءَ اللہ"* ( یعنی کوئی حرج کی بات نہیں اللہ پاک نے چاہا تو)۔ مشہور مفسرِ قرآن ، مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضور ﷺ کے اخلاقِ کریمہ میں سے ہے کہ آپ ﷺ ہر امیر وغریب کے گھر بیمار پُرسی کے لئے تشریف لے جاتے۔ (صحیح بخاری 3626)