اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ اَبِيْ شُرَيْحٍ خُوَيْلِدِ بْنِ عَمْرو الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَاليَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ قَالُوْا:وَمَا جَائِزَتُهُ يَارَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ: يَوْمُهُ وَلَيْلَتُهُ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ اَيَّامٍ فَمَا كَانَ وَرَاءَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِ. وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ:لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ اَنْ يُقِيمَ عِنْدَ اَخِيْهِ حَتّٰى يُؤْثِمَهُ قَالُوْا:يَارَسُوْلَ الله!وَكَيْفَ يُؤْثِمُهُ؟ قَالَ:يُقِيمُ عِنْدَهُ وَلَا شَيْءَ لَهُ يَقْرِيْهِ بِہٖ۔
(فیضان ریاض الصالحین ،حدیث 707)حضرت سیدنا ابوشریح خویلد بن عَمْرو خزاعی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے ہوئے سنا کہ جوشخص اللہ عزوجل اور قِیامت کے دن پر اِیمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ دستور کے مطابق اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرے عرض کی گئی: یارسولَ اللّٰہ دستور کیاہے؟فرمایا:’’ایک دن اور ایک رات اور ضِیافت(مہمانی) تین دن ہےاورتین دن کے بعد صدقہ ہے۔اور مسلم کی رِوایت میں ہے:کسی مسلمان کے لیے یہ حلال نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کے یہاں اِتنا عرصہ ٹھہرے کہ اُسے گُناہ میں مبتلا کر دے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرْض کی: یارسولَ اللہﷺ!وہ اُس کو کیسے گُناہ میں مبتلا کرے گا؟اِرشاد فرمایا: وہ اُس شخص کے یہاں اِتنے وقت تک ٹھہرے کہ اُس کے پاس مہمان نوازی کے لیے کچھ نہ رہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک صاحب حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ !میں فاقہ سے ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں ازواج مطہرات کے پاس بھیجا (کہ وہ آپ کی دعوت کریں) لیکن ان کے پاس کوئی چیز کھانے کی نہیں تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا کوئی شخص ایسا نہیں جو آج رات اس مہمان کی میزبانی کرے ؟ اللہ اس پر رحم کرے گا۔ اس پر ایک انصاری صحابی (ابو طلحہ) کھڑے ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ یہ آج میرے مہمان ہیں پھر وہ انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے مہمان ہیں، کوئی چیز ان سے بچا کے نہ رکھنا۔ بیوی نے کہا اللہ کی قسم میرے پاس اس وقت بچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔ حضرت طلحہ نے کہا کہ جب بچہ رات کا کھانا مانگے تو اس کو سلا دینا اور تم آکر چراغ بجھا دینا اور ہم لوگ اس رات کو بھوکے رہیں گے چناچہ آپ کی زوجہ نے ایسا ہی کیا پھر حضرت طلحہ صبح کے وقت رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ پاک نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے عمل کو پسندفرمایا ۔ (صحیح بخاری حدیث 6019) فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے: جس گھر میں مہمان ہو اس گھر میں خیرو برکت اس تیزی سے اُترتی ہےجتنی تیزی سے اونٹ کی کوہان تک چُھری پہنچتی ہے۔ (ابن ماجہ حدیث 3356) نبیِّ پاک ﷺ نے فرمایا: جب کوئی مہمان کسی کے یہاں آتا ہے تو اپنا رِزق لے کر آتا ہے اور جب اس کے یہاں سے جاتا ہے تو صاحبِ خانہ کے گناہ بخشے جانے کا سبب ہوتا ہے۔ (کشفا الخفاء حدیث 1641) پیارے آقا ﷺ فرماتے ہیں :آدمی جب اللہ پاک کی رِضا کے لئے اپنے بھائی کی مہمان نوازی کرتا ہے اور اس کی کوئی جزا اور شکریہ نہیں چاہتا تو اللہ پاک اس کے گھر میں دس فرشتوں کو بھیج دیتا ہے جو پورے ایک سال تک اللہ پاک کی تسبیح و تہلیل اور تکبیر پڑھتے اور اس بندے (یعنی مہمان نوازی کرنے والے) کے لئے مغفِرت کی دُعا کرتے رہتے ہیں اور جب سال پورا ہوجاتا ہے تو ان فرشتوں کی پورے سال کی عبادت کے برابر اس کے نامۂ اعمال میں عبادت لکھ دی جاتی ہے اور اللہ پاک کے ذمۂ کرم پر ہے کہ اس کو جنّت کی پاکیزہ غذائیں، *”جَنّۃُ الْخُلْد“* اور نہ فنا ہونے والی بادشاہی میں کھلائے۔ (کنز العمال حدیث 25878) *مہمان نوازی کے آداب: * میزبان کو چاہیےکہ مُعَظَّم مہمان کا استقبال کرے۔ مُلاقاتی اورمہمان کی خاطِر تواضُع کرنا سنت ہے،علماء فرماتے ہیں کہ بِغیر کھائے پیئے مُردوں کی سی مُلاقات ہے۔ مہمان کے لیے پُر تکلُّف لذیذ کھانا تیّار کرنا سُنَّت ہے 1)حضرت ابراہیم خلیلُ اﷲ عَلٰی نبیِناوعلیہ الصّلٰوۃوالسّلام نے پراٹھے شِیر مال ایجاد کیے مہمانوں کے لیے۔ 2)اگر میزبان سے بےتکلفی ہو تومہمان اپنے پسندیدہ کھانے کی فرمائش کرسکتا ہے کہ وہ گویا اس کا اپنا ہی گھر ہوتا ہے۔ 3)مہمان کو وداع کے وقْت کچھ دُور پہنچانے جانا بھی سُنَّت ہے۔ 4)ملاقاتی کو دروازے تک پہنچانے میں اُسکا اِحتِرام ہے،(اور) پڑوسیوں کا اطمینان کہ وہ جان لیں گے کہ اُن کا دوست عزیز آیا ہے کوئی اَجْنَبی نہ آیا تھا۔اِس میں اور بہت حکمتیں ہیں،آنے والے کی محبت میں کبھی کھڑا ہوجانا بھی سنّت ہے۔ 5)مہمان سے وقتاً فوقتاً کہے کہ اور کھاؤ مگر اِس پر اِصرار نہ کرے ،کہ کہیں اِصرار کی وجہ سے زِیادہ نہ کھا جائے اور یہ اُ س کے لیے مُضِرّ ہو۔ میزبان کو بِالکل خاموش نہ رہنا چاہیے اور یہ بھی نہ کرنا چاہیے کہ کھانا رکھ کر غائِب ہوجائے، بلکہ وہاں حاضِر رہے اور مہمانوں کے سامنے خادِم وغیرہ پر ناراض نہ ہو اور اگر صاحِبِ وُسْعَت ہو تو مہمان کی وجہ سے گھر والوں پر کھانے میں کمی نہ کرے۔ 6)میزبان کو چاہیے کہ مہمان کی خاطِرداری میں خُود مشغول ہو، خادِموں کے ذِمّہ اُس کو نہ چھوڑے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کی سنت ہے۔ 7)اگر مہمان تھوڑے ہوں تو میزبان اُن کے ساتھ کھانے پر بیٹھ جائے کہ یہی تقاضائے مُرَوَّت ہے اور بہت سے مہمان ہوں تو اُن کے ساتھ نہ بیٹھے بلکہ اُن کی خدمت اور کِھلانے میں مشغول ہو۔ 8)مہمانوں کے ساتھ ایسے کو نہ بِٹھائے جس کا بیٹھنا اُن پر گِراں ہو۔ *مہمان کے آداب: * صدرُ الشریعہ بدر الطریقَہ حضرت علامہ مولانامفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القَوِی فرماتے ہیں: ’’مہمان کو چار باتیں ضَروری ہیں: (1)جہاں بِٹھایا جائے وہیں بیٹھے۔ (2) جو کچھ اُس کے سامنے پیش کیا جائے اُس پر خوش ہو،یہ نہ ہو کہ کہنے لگے: اِس سے اچھا تو میں اپنے ہی گھر کھایا کرتا ہوں یا اِسی قِسْم کے دُوسرے اَلفاظ جیسا کہ آج کل اکثر دعوتوں میں لوگ آپَس میں کہا کرتے ہیں۔ (3) بغیر اجازت صاحب خانہ وہاں سے نہ اُٹھے۔ (4)اور جب وہاں سے جائے تو اُس کے لیے دُعا کرے۔ (فیضان ریاض الصالحین ، جلد 06 )