logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

مصطفیٰ کریم ﷺ کا والدین کی عزت کرنا

مصطفیٰ کریم ﷺ کا والدین کی عزت کرنا

نبی پاک ﷺ کی حسن معاشرت

حدیث

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ العَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: بِرُّ الوَالِدَيْنِ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ۔

( صحیح بخاری، حدیث نمبر: 527)

ترجمہ

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وقت پر نماز ادا کرنا۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ آپ ﷺ نے فرمایا: والدین کے ساتھ حسنِ سلوک (نیکی کرنا)۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔

حکایت

روایت ہے ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے جو الله کے لیے اپنے ماں باپ کے بارے میں مطیع ہو تو اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھل جاتے ہیںاگر ان میں سے ایک ہو تو ایک دروازہ اور جو اپنے والدین کے متعلق الله کا نافرمان ہو اس کے لیے آگ کے دو دروازے کھل جاتے ہیں اگر ایک ہو تو ایک دروازہ ایک شخص نے عرض کیا اگرچہ وہ ظلم کریں فرمایا اگرچہ اس پر ظلم کریں اگرچہ ظلم کریں اگرچہ ظلم کریں (مراۃ المناجیح حدیث 4943) حضور اقدسﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے: جس شخص سے اسکے والدین راضی ہوں اللہ پاک اس سے راضی ہے اور جس سے اس کے والدین ناراض ہوں اس سے اللہ پاک بھی ناراض ہے۔ (ترمذی شریف) ایک شخص رسولُ اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا: یارسول اللہ ﷺ ! میرے حسنِ اخلاق کا زیادہ حق دار کون ہے؟ ارشاد فرمایا: *"تمہاری ماں"* اس نے دوبارہ عرض کی: اس کے بعد کون؟ ارشاد فرمایا: *"تمہاری ماں"* تیسری بار عرض کی: اس کے بعد کون؟ تو آپ ﷺ نے اس مرتبہ بھی یہی ارشاد فرمایا: *"تمہاری ماں"* اس نے پھر عرض کی: اس کے بعد کون؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: *"تیرا باپ"*، پھر قریبی کا زیادہ حق ہے پھر جو اس کے بعد قریبی ہو۔ (صحیح بخاری) حضرت سیدنا موسی علیہ السّلام نے اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کی کہ مجھے میرا جنت کا ساتھی دکھا دے۔ اللہ پاک نے فرمایا: فلاں شہر کا قصائی تمہارا جنت کا ساتھی ہے۔ حضرت موسی علیہ السّلام اس قصائی سے ملنے پہنچے تو اس نے آپ علیہ السّلام دعوت کی۔ جب کھانے کے لئے بیٹھے تو قصائی نے ایک بڑی سی ٹوکری اپنے پاس رکھ لی۔ دو نوالے ٹوکری میں ڈالتا اور ایک نوالہ خود کھاتا۔ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ قصائی باہر گیا، حضرت موسی علیہ السّلام نے ٹوکری میں نظر کی تو کیا دیکھتے ہیں کہ ٹوکری میں بوڑھے مرد و عورت ہیں جیسے ہی ان کی نظر حضرت موسی علیہِ السّلام پر پڑی، ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی پھر ان بزرگوں نے آپ علیہ السّلام کی رسالت کی گواہی دی اور ُاسی وقت انتقال کرگئے۔ قصائی جب واپس آیا تو اپنے فوت شدہ والدین کو دیکھ کر سارا معاملہ سمجھ گیا اور حضرت موسی علیہ السّلام کا ہاتھ چومتے ہوئے کہنے لگا: مجھے لگتا ہے کہ آپ اللہ پاک کے نبی حضرت موسی علیہ السّلام ہیں؟ فرمایا ہاں تمہیں کیسے اندازہ ہوا؟ کہنے لگا کہ میرے والدین روز یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ پاک ہمیں حضرت موسی علیہ السّلام کا دیدار کرتے ہوئے موت دینا۔ ان کے اچانک انتقال کرنے سے میں نے اندازہ لگایا کہ آپ ہی حضرت موسی علیہ السّلام ہیں۔ قصائ نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے کہا جب میری ماں کھانا کھالیتی تو مجھے اس طرح دعا دیتی:یا اللہ پاک میرے بیٹے کو جنت میں حضرت موسی علیہ السّلام کا ساتھی بنانا۔ حضرت موسی علیہ السّلام نے فرمایا: مبارک ہو کہ اللہ پاک نے تمہیں میرا جنت کا ساتھی بنایا ہے۔

اہم نکات

  • والدین کی خدمت کرنا دنیا و آخرت میں باعثِ سعادت ہے، ان کی خدمت کی برکت سے بارگاہ خداوندی میں بہت بلند مقام نصیب ہوتا ہے۔
  • جو اپنے ماں باپ سے حسن سلوک کر ے گا اس کی اولاد اس کے ساتھ حسن سلوک کرے گی۔
مصطفیٰ کریم ﷺ کا والدین کی عزت کرنا | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya