اسلامک ڈیسک کی جانب سے


وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأٰى فِي بَيْتِ الزُّبَيْرِ مِصْبَاحًا فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ مَا أُرَى أَسْمَاءَ إِلَّا قَدْ نُفِسَتْ وَلَا تُسَمُّوهُ حَتّٰى أُسَمِّيَه فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللّٰهِ وَحَنَّكَهٗ بِتَمْرَةٍ بِيَدِهِ.
مشکاۃ المصابیح۔ (حدیث6343)روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے کہ نبی پاک ﷺ نے حضرت زبیر کے گھر میں چراغ دیکھا تو فرمایا، اے عائشہ میں نہیں سمجھتا مگر یہ کہ اسماء کے ہاں بچہ پیدا ہوگا ،تو تم لوگ اس کا نام نہ رکھنا حتی کہ میں اس کا نام رکھوں چنانچہ حضورﷺ نے ان کا نام عبداللہ رکھا اور آپﷺ نے ہاتھ سے چھوہارے سے ان کی تحنیک کی(یعنی گٹھی دی)۔
حضرت علیّ المُرتضیٰ شیر خدا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب حضرت حسن رضی اللہُ عنہ پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام ”حَرب“ رکھا اور میں یہ پسند کرتا تھا کہ مجھے ”ابوحَرب“ کنیت سے پُکارا جائے۔ حضورِاکرم ﷺ(میرے گھر) تشریف لائے، حضرت حسن رضی اللہُ عنہ کو گھٹی دی اور مجھ سے فرمایا کہ تم نے میرے بیٹے کا نام کیا رکھا ہے؟ تو میں نے عرض کی:"حرب " رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: وہ حسن ہے۔ پھر جب حضرت حسین رضی اللہُ عنہ کی ولادت ہوئی تو میں نے ان کا نام بھی”حرب“رکھا۔ حضورِاکرم ﷺ تشریف لائے، حضرت حسین رضی اللہُ عنہ کو گھٹی دی اور مجھ سے پوچھا کہ تم نے میرے بیٹے کا نام کیا رکھا ہے؟ تو میں نے عرض کی: "حرب" نبی کریم ﷺ نے فرمایا: وہ حسین ہے۔ (مسند براز حدیث 743) حضرت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرات صحابہ اپنے نومولود بچے کو حضورﷺ کی خدمت میں لاتے تھے حضور ﷺ کھجور چباکر اپنی زبان شریف سے بچے کے تالو میں لگادیتے تھے تاکہ بچے کے منہ میں سب سے پہلے حضورﷺ کا لُعاب شریف پہنچے۔ (مراۃ المناجیح) روایت ہے حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے کہ وہ مکہ معظمہ میں عبدالله ابن زبیر کی حاملہ ہوئیں فرماتی ہیں کہ قبا میں میرے ہاں ولادت ہوئی پھر میں انہیں رسول الله ﷺ کی خدمت میں لائی اور حضور ﷺکی گود میں رکھا آپﷺ نے چھوہارا منگایا اسے چبایا پھر ان کے منہ میں ڈال دیا ان کی تحنیک کی(یعنی گٹھی دی) پھر ان کے لیے برکت کی دعا مانگی اور یہ اسلام میں پہلا بچہ تھا جو پیدا ہوا یعنی حضورانور ﷺ نے اپنے منہ میں چھوہارا یا کھجور چباکر زبان کی نوک سے آپ کے تالو پر لگادیا یہ ہے تحنیک۔ خود ہی حضور ﷺ نے آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا نام رکھا۔ (صحیح بخاری حدیث 5469) حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے یہاں بیٹے کی ولادت ہوئی تو میں اُسے رسولِ کریم ﷺ کی خدمت میں لے گیا، نبی کریم ﷺ نے اُس کا نام ”ابراہیم“ رکھا، اُسے کھجور سے گھٹی دی اور اُس کے لئے برکت کی دعا فرمائی۔ (صحیح بخاری حدیث5467) حضرت عبد الرحمٰن بن زید رضی اللہُ عنہ جب پیدا ہوئے تو ان کے نانا جان حضرت ابولُبابہ رضی اللہُ عنہ نے انہیں ایک کپڑے میں لپیٹ کر رسولِ کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا اور عرض کی: یارسولَ اللہ ﷺ! میں نے آج تک اتنے چھوٹے جسم والا بچہ نہیں دیکھا۔ مدنی آقا ﷺ نے بچے کو گھٹی دی، سر پر ہاتھ مبارک پھیرا اور دعائے برکت سے نوازا۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، 5/29) حضرت یحییٰ بن خلاد رضی اللہُ عنہ کی ولادت رسولِ کریمﷺ کے زمانے میں ہوئی، انہیں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان کو کھجور چبا کر گھٹی دی اور فرمایا: میں اس کا وہ نام رکھوں گا جو حضرت یحییٰ بن زکریا علیہم السّلام کے بعد کسی کا نہیں رکھا گیا، پھر آپﷺ نے ان کا نام ”یحییٰ“ رکھا۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، 1/326)