logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

پیارے نبی ﷺ کا حسن ظن کی تلقین کرنا

پیارے نبی ﷺ کا حسن ظن کی تلقین کرنا

نبی پاک ﷺ کی حسن معاشرت

حدیث

عَن جَابِرِ بْنِِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَااَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثَةِ اَ يَّامٍ يَقُولُ : لَا يَمُوتَنَّ اَحَدُكُمْ اِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ۔

ریاض الصالحین (حدیث 441)

ترجمہ

حضرت سیدنا جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی رحمت شفیع امّتﷺ کی وفاتِ ظاہری سے تین دن قبل آپﷺ کویہ فرماتے ہوئے سناکہ : ’’تم میں سے ہر شخص اس حال میں انتقال کرے کہ وہ اپنے رب سے حسن ظن رکھتا ہو۔

حکایت

حضور نبی اکرم ﷺ ايک ایسے شخص کے پاس تشريف لے گئے جو نزع کے عالم میں تھا ۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا : تم اپنے آپ کو کيسا پاتے ہو؟ اس نے عرض کی : ’’یارسول اللہ ﷺ میں اپنے آپ کو يوں پاتا ہوں کہ مجھے اپنے گناہوں کا خوف بھی ہے اور اپنے رب تعالیٰ کی رحمت کی اميد بھی ۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشادفرمايا : ایسے وقت میں جس بندے کے دل میں یہ دونوں باتيں ( یعنی اميد اور خوف ) جمع ہوں ،اللہ عزوجل اسے اُس کی اميد کے مطابق عطا فرماتا ہے اور جس چیز سے اُسے خوف ہوتا ہے اس سے امن عطا فرماتا ہے۔ حجۃ الاِسلام حضرتِ سیدنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں کہ ایک شخص لوگوں کوقرض دیا کرتا تھا ، وہ مالدارکو معاف کردیا کرتا اور تنگ دست کے ساتھ نرمی کیا کرتا ۔ جب اس کی موت واقع ہوئی تووہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملاکہ اس نے کوئی بھی نیک عمل نہیں کیا تھا ۔ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا : ہم سے زیادہ معاف کرنے کا کون حق دارہے ؟پھر اسے عبادت کے معاملے میں مفلس ہونے کے باجود رب تعالیٰ سے حسن ظن اور معافی کی امید رکھنے کے باعث بخش دیا۔ (فیضان ریاض الصالحین حدیث441) اللہ عزّوجلّ ارشاد فرماتا ہے: *"لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًاۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ"* (پارہ18، النور: 12) ترجمۂ کنزلایمان: کیوں نہ ہوا جب تم نے اسے سنا تھا کہ مسلمان مردوں اورمسلمان عورتوں نے اپنوں پرنیک گُمان کیاہوتا اور کہتے یہ کھلا بہتان ہے۔ اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے: مسلمان کو یہی حکم ہے کہ مسلمان کے ساتھ نیک گُمان کرے اور بدگُمانی ممنوع ہے۔ علامہ عبدالرؤف مناوی علیہ رحمۃ اللہ القَوِی فرماتے ہیں : یعنی تم مختلف اَحوال میں سے فقط حُسنِ ظن کی حالت میں ہی مرنا اور اللہ عزوجل سے حسنِ ظن یہ ہے کہ وہ رب تعالیٰ سے یہ گمان رکھے کہ وہ اس پر رحم فرمائے گا ، اس کے گناہوں کو معاف فرمائے گا۔ (فیضان ریاض الصالحین حدیث 441)

اہم نکات

  • رب تعالیٰ کی رحمت اور اس کی پاک ذات سے کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے،ہرمسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب تعالیٰ سے ہمیشہ اچھا گمان ہی رکھے۔
  • بندے کوچاہیے کہ نیک اعمال کرتارہے تاکہ موت کے وقت اللہ عزوجل سے اچھاگمان رکھے۔
پیارے نبی ﷺ کا حسن ظن کی تلقین کرنا | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya