logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

حضور ﷺ کی صحابہ سے محبت

حضور ﷺ کی صحابہ سے محبت

نبی پاک ﷺ کی حسن معاشرت

حدیث

عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَفَعَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، وَكَانَ كَثِيرًا مِمَّايَرْفَعُ رَأْسَهُ اِلَى السَّمَاءِ. فَقَالَ:النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومَ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوْعَدُ وَأَنا أَمَنةٌ لِأَصْحَابِي فَإِذَا ذَهَبْتُ أَنَا أَتٰى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتٰى أُمَّتِيْ مَا يُوعَدُونَ».

مشکاۃ المصابیح، (حدیث 6008)

ترجمہ

حضرت ابو بردہ رضی اللہ تعالٰی عنہا اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ ﷺ بہت دفعہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاتے تھے، فرمایا کہ تارے آسمان کے لیے امان ہیں جب تارے جاتے رہیں گے تو آسمان کو وہ پہنچے گا جس کا وعدہ ہے اور میں اپنے صحابہ کے لیے امان ہوں تو جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ گزرے گا جس کا ان سے وعدہ ہے اور میرے صحابہ میری امت کے لیے امان ہیں تو جب میرے صحابہ چلے گئے تو میری امت کو وہ پہنچے گا جس کا ان سے وعدہ ہے۔

حکایت

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مغفل سے فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے صحابہ کے متعلق اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے بعد انہیں نشانہ نہ بناؤ کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا ۔ اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اور جس نے مجھے ستایا اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ اسے پکڑے۔ (مشکاۃ المصابیح حدیث 6014) حضور ﷺ نے فرمایا: اس مسلمان کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا یعنی میرے صحابہ کو یا مجھے دیکھنے والوں کو دیکھا یعنی تابعین کو۔ (ترمذی شریف حدیث 3858) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرما تے تھے: رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو گالیاں نہ دو ان کا نبی اکرم ﷺ کی صحبت میں ایک لمحہ رہنا تمہاری ساری زندگی کے عمل سے بہتر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں پس تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کروگے تو ہدایت پالو گے۔ (مشکاۃالمصابیح حدیث 6012) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کو برا نہ کہو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خیرات کرے تو ان کے ایک مُد تو کیا آدھے کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ (صحیح بخاری حدیث 3673) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو صحابہ سے محبت کرتا ہے وہ میرے ساتھ محبت کی بنا پر ان سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ میرے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھتا ہے۔ اللہ پاک نے صحابہ کرام کو اپنے نبی ﷺ کی صحبت و رفاقت کے لیے منتخب فرمایا، انبیائے کرام کے بعد صحابہ کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل و اعلیٰ ہے یہ عظمت و فضیلت صرف صحابہ کو ہی حاصل ہے، اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت، جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے، صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جو ان کی فضیلت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کا حصہ ہے، حضرت علامہ مسعود بن عمر سعد الدین تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: صحابہ کرام کا ذکر صرف خیر ہی کے ساتھ کیا جائے کیونکہ ان کے فضائل میں احادیث صحیحہ وارد ہیں نیز ان پر نکتہ چینی سے رکنا واجب ہے۔

اہم نکات

  • اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ کا ذکر ہمیشہ خیر سے ہی کرنا چاہیے۔
  • کسی صحابی کو ہلکے لفظ سے یاد نہ کرو،یہ حضرات وہ ہیں جنہیں رب نے اپنے محبوب کی صحبت کے لیے چنا۔
حضور ﷺ کی صحابہ سے محبت | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya