اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَوْمَ الاثْنَيْنِ،
شمائل ترمذی (حدیث 369)حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا وصال پیر کے دن ہوا۔
حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ جس روز حضور اقدس ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تھے مدینہ کی ہر چیز منور اور روشن ہو گئی تھی اور جس دن حضور اکرم ﷺ کا وصال (ظاہری) ہوا تو مدینہ کی ہر چیز تاریک ہوگئی تھی ہم لوگ حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد مٹی سے ہاتھ بھی نہ جھاڑنے پائے تھے کہ ہم نے اپنے قلوب میں تبدیلی پائی۔ (شمائل ترمذی حدیث 368) ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کےوصال ظاہری کے بعد تشریف لائے اور پ نے اپنا منہ رسول اللہﷺ کی آنکھوں کے درمیان رکھا، اور اپنا ہاتھ نبی اکرم ﷺ کی دونوں کلائیوں پر رکھا، اور فرمایا: ہائے نبی، ہائے اللہ کے مخلص بندہ ، ہائے اللہ کے دوست۔ (شمائل ترمذی حدیث 367) *حضور ﷺ کا حضرت فاطمہ کو وصال کی خبر دینا؛* اپنے مرض وفات میں ایک دن آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو بلایا اور چپکے چپکے ان سے کچھ فرمایا تو وہ رو پڑیں۔ پھر بلایا اور چپکے چپکے کچھ فرمایا تو وہ ہنس پڑیں جب ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہم نے اس کے بارے میں حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ نے آہستہ آہستہ مجھ سے یہ فرمایا کہ میں اس بیماری میں وفات پاجاؤں گا تو میں رو پڑی۔ پھر چپکے چپکے مجھ سے فرمایا کہ میرے بعد میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے تم وفات پاکر میرے پیچھے آؤ گی تو میں ہنس پڑی۔ (مراۃ المناجیح) آپ ﷺ کے مرض میں کمی بیشی ہوتی رہتی تھی۔ خاص وفات کےدن یعنی پیر کے روز طبیعت اچھی تھی۔ حجرہ مسجد سے متصل ہی تھا۔ آپﷺ نے پردہ اٹھا کر دیکھا تو لوگ نماز فجر پڑھ رہے تھے۔ یہ دیکھ کر خوشی سے آپ ﷺ مسکرائے لوگوں نے سمجھا کہ آپ ﷺمسجد میں آنا چاہتے ہیں مارے خوشی کے تمام لوگ بے قابو ہو گئے مگر آپ ﷺنے اشارہ سے روکا اور حجرہ میں داخل ہو کر پردہ ڈال دیا یہ سب سے آخری موقع تھا کہ صحابه کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے جمال نبوت کی زیارت کی۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ آپ ﷺ کا رخ انور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا قرآن کا کوئی ورق ہے۔ یعنی سفید ہوگیا تھا۔ (صحیح بخاری حدیث 4448)