اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ اَبِي هُرَ يْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دِيْنَارٌ اَنْفَقْتَهُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ وَدِيْنَارٌاَنْفَقْتَهُ فِيْ رَقَبَةٍ وَدِيْنَارٌتَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ وَدِيْنَارٌ اَنْفَقْتَهُ عَلَى اَهْلِكَ اَعْظَمُهَا اَجْرًا الَّذِي اَنْفَقْتَهُ عَلٰی اَهْلِكَ.
(فیضان ریاض الصالحین حدیث 289)حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مَروی ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار،مکی مدنی سرکارﷺ نے ارشادفرمایا:’’ایک دینار وہ ہےجو تو راہِ خدا میں خرچ کرے اور ایک وہ ہے جس کے ذریعے غلام آزاد کرائے،ایک وہ جسے تو مسکین پر صدقہ کرے اور ایک وہ ہےجسے تو اپنے اہل وعیال پرخرچ کرے تو اِن میں سب سے زیادہ فضیلت والا وہ ہے جسے تو اپنے اہل وعیال پرخرچ کرے۔
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں:’’میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ آئی ، میں نے اُسے تین کھجوریں دیں تو تینوں نے ایک ایک لےلی۔ پھر اُس عورت نے اپنی کھجور بھی دوٹکڑے کر کے اپنی بیٹیوں کوکھلا دی، مجھے اِس سے بہت تعجب ہوا۔ میں نے حضور نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ میں یہ واقعہ عرض کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عزوجلّ نے اِس( ایثار) کی وجہ سے اِس عورت کے لئے جنت واجب کردی ہے ۔ (فیضان ریاض الصالحین ، تحت الحدیث 291) ایک شخص تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت ﷺ کے قریب سے گزرا تو صحابہ کرام علیہم الرِضوان نے اُس کے پھرتیلے بدن کی مضبوطی اور چستی دیکھ کرعرض کی: یارسول اللہﷺ کاش! اس کا یہ حال اللہ عزوجل کی راہ میں ہوتا۔ تو آپ ﷺ نے ارشادفرمایا : اگر یہ اپنے چھوٹے بچوں کے لئے رِزق کی تلاش میں نکلا ہے تو یہ اللہ عزوجل کی راہ میں ہے اور اگر اپنے بوڑھے والدین کے لئے رِزق کی تلاش میں نکلا ہے تو بھی یہ اللہ عزوجل کی راہ میں ہے۔ اگر اپنی پاک دامنی کے لئے رِزق کی تلاش میں نکلا ہے تب بھی اللہ عزوجل کی راہ میں ہے اور اگردکھاوے اور تفاخر کے لئے نکلا ہے تو یہ شیطان کی راہ میں ہے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی نے چار جگہ پر مال خرچ کرنے کی فضیلت بیان کی۔ (1) راہِ خدامیں خرچ کرنا۔ (2) غلام آزاد کرانے کے لئے خرچ کرنا۔ (3)مسکین پر خرچ کرنا۔ (4) اہل وعیال پر خرچ کرنا۔ یقیناً یہ سب اُمور باعثِ فضیلت ہیں۔ (فیضان ریاض الصالحین حدیث 289) حضرت سیِدنا ابو مَسعود بدری رضی اللہُ تعالٰی عنہ سے مَروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا : ’’جب کوئی ثواب کی اُمید رکھتے ہوئے اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے تو وہ اُس کے لئے صدقہ ہے ۔ تاجدارِ رِسالت ﷺ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا تو ایک شخص نے عرض کی:میرے پاس دِینارہے،فرمایا: اپنے اوپرخرچ کر۔ عرض کی: اوربھی ہے۔ فرمایا :اپنی اولاد پر خرچ کر۔ عرض کی: اور بھی ہے۔ فرمایا: اپنی زوجہ پرخرچ کر۔ عرض کی: اوربھی ہے۔ فرمایا: اپنے خادم پرخرچ کر۔ عرض کی:اوربھی ہے۔ فرمایا : پھر تو خود بہترجانتا ہے۔‘‘ معلوم ہوا کہ گھر والوں میں سے جو جتنا زیادہ قریبی ہے وہ اتنا ہی زیادہ اِس بات کا حقدار ہے کہ اُس پر مال خرچ کیا جائے۔ (فیضان ریاض الصالحین حدیث293)