logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

حضور ﷺ کا ہر کام سیدھی جانب سے شروع کرنا

حضور ﷺ کا ہر کام سیدھی جانب سے شروع کرنا

نبی پاک ﷺ کی ذاتی صفات

حدیث

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ في شَاْنِهِ كُلِّهِ: فِيْ طُهُوْرِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَتَنَعُّلِهِ.

فیضان ریاض الصالحین (حدیث 721)

ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں، رسول اللہ ﷺاپنے تمام کاموں میں دائیں جانب سے ابتدا کرنے کو پسند فرماتے تھے،جیساکہ اپنی طہارت میں،کنگھی کرنے میں اور نعلین مبارک پہننے میں۔

حکایت

حضور ﷺ نے فرمایا؛ تم میں سے ہر ایک سیدھے ہاتھ سے کھائے اور سِیدھے ہاتھ سے پئے اور سیدھے ہاتھ سے لے اور سیدھے ہاتھ سے دے کیونکہ شیطان اُلٹے ہاتھ سے کھاتا اور اُلٹے ہاتھ سے پیتا اُلٹے ہاتھ سے دیتا اور اُلٹے ہاتھ سے لیتا ہے۔ (ابنِ ماجہ،ج4 حدیث:3266) حضور علیہ الصّلٰوۃ والسّلام ہرکام کی ابتدا دائیں جانب سے فرماتے تھے، یہاں تمام کاموں سے وہ کام مراد ہیں جو قابلِ تکریم (اچھے واعلیٰ) اور زینت کے قبیل سے ہوں اور ان کا تعلق افعالِ مقصودہ سے ہو، بہر حال وہ کام کہ جنہیں بائیں ہاتھ سے کرنا مستحب ہے یا وہ افعال جو بالذّات مقصود نہیں ہوتے جیساکہ بیت الخلاء میں داخل ہونا، مسجد سے باہر آنا وغیرہ ان جیسے افعال میں حضور ﷺ بائیں جانب کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ اور جن کاموں کو دائیں ہاتھ سے کرنا مستحب ہے آپﷺ انہیں ہر صورت دائیں ہاتھ سے ہی سر انجام دیتے اور اپنے اس عمل کو سفر و حَضر، فراغت و مشغولیت میں کبھی ترک نہ فرماتے، ہاں اگر کسی مجبوری کی بنا پر آپﷺ دایاں ہاتھ استعمال نہ کر سکتے تو پھر بایاں ہاتھ استعمال فرماتے۔ جب بھی کوئی شے لیتے تو دائیں ہاتھ سے لیتے اور جب کسی کو کچھ عطا فرماتے تو دائیں ہاتھ سے عطا فرماتے۔ ایک بار آپﷺ لوگوں کے درمیان تشریف لائے تو آپﷺ کے دونوں مبارک ہاتھوں میں کتابیں تھیں، ایک میں جنّتیوں، ان کے باپ دادوں اور ان کے قبیلوں کے نام تھے جبکہ دوسری میں جہنمیوں، ان کے باپ دادوں اور ان کے قبیلوں کے نام تھے۔ جس کتاب میں جنتیوں کے نام تھے وہ آپ ﷺ کے دائیں ہاتھ مبارک میں تھی۔ مفسر شہیر محدِّث کبیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان علی رحمۃ الحنان فرماتے ہیں: ”یہ تین چیزیں یعنی طہارت حاصل کرنا، کنگھی کرنا اور نعلین مبارک میں دائیں جانب کو مقدم کرنا بطورِ مثال ارشاد فرمائی گئیں ورنہ سُرمہ لگانا، ناخُن و بغل کے بال لینا، حجامت اور مونچھیں کٹوانا، مسجد میں آنا اور مسواک کرنا وغیرہ سب میں سنت یہ ہے کہ داہنے ہاتھ یا داہنی جانب سے ابتداء کرے کیونکہ نیکیاں لکھنے والا فرشتہ داہنی طرف رہتا ہے اس کی وجہ سے یہ سمت افضل ہے حتّٰی کہ داہنا پڑوسی بائیں پڑوسی سے زیادہ مستحقِ سلوک ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن جن کے نامۂ اعمال ان کے ”داہنے“ ہاتھوں میں دیئے جائیں گے یہ ان کیلئے خوش بختی کی نشانی ہوگی اور وہ جنّت میں داخل ہوں گے۔ (مراۃ المناجیح حدیث 400)

اہم نکات

  • کھانے پینے کی چیز تقسیم کرنے میں سیدھی جانب سے ابتدا کرنی چاہیے کہ یہ سنتِ مبارکہ ہے۔
  • حضور ﷺ کے ہر کام کو سیدھے ہاتھ سے کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ نیک فال کو پسند فرماتے تھے اور سیدھے ہاتھ میں نیک فال یہ ہے کہ جنتیوں کی جانب ہے۔
حضور ﷺ کا ہر کام سیدھی جانب سے شروع کرنا | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya