اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا کَانَ رَسُولُ الله صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہ وَ آلہِ وَسَلَّم يَسْرُدُ سرْدَکُمْ هَذَا وَلَکِنَّهُ کَانَ يَتَکَلَّمُ بِکَلامٍ بَيِّنٍ فَصْلٍ يَحْفَظُهُ مَنْ جَلَسَ إِلَيْهِ۔
شمائل ترمذی (حدیث 211)حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کی گفتگو تم لوگوں کی طرح لگاتار جلدی جلدی نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ صاف صاف اور جدا جدا کلام فرماتے کہ پاس بیٹھنے والے اسے حفظ کرلیتے تھے۔
’’سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہماسے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالۃ سے، جو کہ اکثر حضور ﷺ کے اوصافِ کریمانہ بیان فرماتے تھے عرض کیا کہ رسول ِ کریمﷺ کی گفتگو کی کیفیت مجھ سے بیان کریں، انہوں نے فرمایا: حضورﷺ اکثر حزن و ملال میں رہتے، ہمیشہ متفکر رہتے، آپﷺ کو راحت میسر نہ تھی۔ آپ ﷺ زیادہ تر خاموش رہتے، بلا ضرورت گفتگو نہ فرماتے، ابتدائے کلام سے انتہائے کلام تک پورے منہ مبارک کو استعمال فرماتے، گفتگو فرماتے وقت جامع کلام استعمال فرماتے، آپﷺ کی گفتگو انتہائی صاف اور واضح ہوتی، ضرورت سے زیادہ نہیں ہو تی تھی، اور نہ ادائیگی مقصود میں کوئی کمی ہو تی تھی، نہ آپ ﷺ جفا کرنے والے تھے،اور نہ ہی آپﷺ حقیر وضعیف تھے، آپﷺ نعمت کو بڑی عظمت بخشتے تھے اگرچہ وہ تھوڑی ہی کیوں نہ ہو، اس نعمت میں سے کسی چیز کی مذمت نہیں فرماتے تھے۔ چنانچہ کھانے کی چیزوں کی مذمت نہ کرتے اور نہ ہی زیادہ تعریف کرتے، نہ آپﷺ کو کسی دنیاوی امر کی وجہ سے غصہ آتا تھا اور نہ ہی کوئی ایسی چیز تھی جس کی وجہ سے حضورﷺ کو ان دنیاوی امور میں غصہ آتا، ہاں جب کوئی شخص حق سے تجاوز کر جاتا تو آپﷺ کے غصہ کے مقابلے میں کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی تھی یہاں تک کہ اس کا انتقام لے لیتے۔ حضور ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی غصہ نہیں فرمایا اور نہ کبھی اس کا انتقام لیا۔ آپ ﷺ جب کسی چیز کی طرف اشارہ فرماتے تو پورے دست ِ مبارک سے اشارہ فرماتے، جب کسی بات پر تعجب فرماتے تو دست مبارک کی ہتھیلی کو پلٹ دیتے۔ اور جب گفتگو فرماتے تو ہاتھ ملالیتے، اور دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کے انگوٹھا کے اندرونی حصہ پر ملاتے، جب کسی پر ناراض ہو تے تو اس سے رخ انور پھیر لیتے اور جس وقت خوش ہو تے تو نظر یں جھکا لیتے، آپ صلیﷺ کا کمال درجے کا ہنسنا صرف تبسم تھا، اس سے آپ ﷺ کے دندان مبارک سفید اور چمک دار اولے کی مانند دکھائی دیتے تھے۔ (شمائل ترمذی حدیث 221) حضرت سیِدنا انس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ﷺ جب کوئی بات فرماتے تو اس کو تین مرتبہ دُہراتے تاکہ اسے سمجھ لیا جائے ۔ (صحیح بخاری حدیث 212) حضورِ اکرم ﷺ صحابۂ کرام علیہم الرضوان کو مثالیں دے کر سمجھاتے جیسا کہ حضرت سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ موسم سرما میں باہر تشریف لائے جبکہ درختوں کے پتے جَھڑ رہے تھے تو آپ نے ایک درخت کی ٹہنی پکڑ کر اس کے پتّے جھاڑتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ! میں حاضر ہوں۔ ارشاد فرمایا: بےشک جب کوئی مسلمان اللہ پاک کی رضا کے لئے نماز پڑھتاہے تو اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے اس درخت کے پتے جھڑرہے ہیں۔ (مسند احمد حدیث 21621) اسی طرح آپ ﷺ کبھی کسی بات کو سمجھانے کے لئے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ بھی فرمایا کرتے تھے، چنانچہ یتیم بچّوں کی پرورش کرنے والے کے درجے کو بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنّت میں اس طرح ہوں گے۔ پھر اپنی شہادت والی اور درمیان والی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ (صحیح بخاری حدیث 5304)