اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً۔
شمائل ترمذی (حدیث 357)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نبوت کے بعد تیرہ برس مکہ مکرمہ میں رونق افروز رہے ان تیرہ برس میں حضور ﷺ پر وحی نازل ہوتی رہی اس کے بعد مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمائی اور دس سال مدینہ منورہ میں قیام رہا اور تریسٹھ سال کی عمر میں وصال ہوا۔ (شمائل ترمذی حدیث 355) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ میں یہ فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا۔ حضرات شیخین یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کا وصال بھی تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا میری بھی اس وقت تریسٹھ سال کی عمر ہے۔ (شمائل ترمذی حدیث 356) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یہ منقول ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا وصال پینسٹھ سال کی عمر میں ہوا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نہ زیادہ لمبے قد کے تھے نہ پست قد نیز رنگ کے لحاظ سے بالکل سفید تھے نہ بالکل گندمی رنگ، آپ ﷺ کے بال مبارک نہ بالکل پیچیدہ تھے نہ بالکل سیدھے (بلکہ ہلکی ہلکی سی پیچیدگی اور گھونگریالہ پن لئے ہوئے) چالیس سال کی عمر میں آپ ﷺ کو نبوت ملی اس کے بعد دس سال حضور اکرم ﷺ نے مکہ مکرمہ میں قیام فرمایا اور دس سال مدینہ منورہ میں ساٹھ سال کی عمر میں حضور اکرم ﷺ کا وصال ہوا۔ اس وقت آپ ﷺ کے سر مبارک اور داڑھی شریف میں تقریبا بیس بال بھی سفید نہیں ہوں گے۔ (شمائل ترمذی حدیث 360) کتب احادیث اور کتب سیرت میں اس بارے میں تین روایات منقول ہیں پہلی یہ کہ آپﷺ کی عمر مبارک ساٹھ برس تھی ۔ دوسری یہ کہ آپ ﷺ کی عمر مبارک پینسٹھ برس تھی۔ اور تیسری روایت یہ کہ عمر مبارک تریسٹھ سال تھی آخری قول ہی زیادہ صحیح اور مشہور ہے۔ (مراۃالمناجیح)