اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَن اَنَسٍ قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ خَدَمْتُهٗ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا لَامَنِي عَلٰى شَيْءٍ قَطُّ أَتٰى فِيهِ عَلٰى يَدَيَّ فَإِنْ لَامَنِي لَائِمٌ مِنْ أَهْلِهٖ قَالَ: دَعُوهُ فَإِنَّهٗ لَوْ قُضِيَ شَيْءٌ كَانَ۔
مشکاۃ المصابیح (حدیث 5819)حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہےفرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی اس وقت خدمت کی جب کہ میں آٹھ سال کا تھا میں نے حضور ﷺکی دس سال خدمت کی تو مجھے کبھی کسی چیز پر ملامت نہ کی جسے میرے ہاتھ پر خرابی پہنچتی اگر آپ ﷺکے گھر والوں میں سے کوئی مجھے ملامت کرتا تو فرماتے جانے دو اگر کچھ اور مقدر میں ہوتا تو وہ ہوتا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسولﷲ ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی کا خادم اس کے لیے کھانا تیار کرے پھر وہ کھانا لائے اور اس کی گرمی اور دھواں برداشت کرچکاہو، تو اسے اپنے ساتھ بٹھا لے کہ وہ بھی کھائے، لیکن اگر کھانا تھوڑا ہو تو اس میں سے خادم کے ہاتھ پر ایک دو لقمے رکھ دے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: *"قالَ اللَّهُ تَعالَى: ثَلاثَةٌ أنا خَصْمُهُمْ يَومَ القِيامَةِ، رَجُلٌ أعْطَى بي ثُمَّ غَدَرَ، ورَجُلٌ باعَ حُرًّا فأكَلَ ثَمَنَهُ، ورَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أجِيرًا فاسْتَوْفَى منه ولَمْ يُعْطِهِ أجْرَهُ."* ترجمہ: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ جن کا قیامت کے دن میں خود مدعی بنوں گا۔ ایک تو وہ شخص جس نے میرے نام پہ عہد کیا اور پھر وعدہ خلافی کی۔ دوسرا وہ جس نے کسی آزاد آدمی کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی اور تیسرا وہ شخص جس نے کسی کو مزدور کیا پھر کام تو اس سے پورا لیالیکن اس کی مزدوری نہ دی۔ (صحیح بخاری ) حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہےفرماتے ہیں رسول اﷲ ﷺ نےفرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے تو وہ اﷲ کا ذکر کردے تو اپنے ہاتھ اٹھالو۔ روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سےفرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا یارسول اﷲ ہم خادم کو کتنی بار معافی دیں حضور خاموش رہے اس نے پھر وہ سوال دہرایا آپ ﷺ خاموش رہے پھر جب تیسری بار سوال ہوا تو فرمایا اسے ہر دن میں ستر بار معافی دو۔ (صحيح البخاري)