logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

آقاﷺ کا مسکرانا

آقاﷺ کا مسکرانا

نبی پاک ﷺ کی ذاتی صفات

حدیث

حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: مَا كَانَ ضَحِكُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺإِلَّا تَبَسُّمًا

شمائل ترمذی (حدیث216)

ترجمہ

حضرت عبد اللہ بن حارث سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ؛ حضورﷺ ہنستے نہ تھے مگر مسکراتے۔

حکایت

حضرت عامر بن سعید ضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد سعد نے فرمایا کہ حضور اقدس ﷺ غزوہ خندق کے دن ہنسے ، حتی کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔ حضرت عامر کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ حضور ﷺ کس بات پر ہنسے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ایک کافر ڈھال لئے ہوئے تھا اور سعد بڑے تیر پھینک رہے تھے لیکن وہ اپنی ڈھال ادھر ادھر کرلیتا جس کی وجہ سے اپنی پیشانی کا بچاؤ کر رہا تھا۔ (گویا مقابلہ میں سعد کا تیر نہ لگنے دیتا تھا حالانکہ یہ مشہور تیر انداز تھے) حضرت سعد نے ایک مرتبہ تیر نکالا (اور کمان میں کھینچ کر انتظار میں رہے) جس وقت اس نے ڈھال سے سر اٹھایا فورا ایسا لگایا کہ پیشانی سے چوکا نہیں اور وہ فوراً گرگیا ۔ ٹانگ بھی اوپر اٹھ گئی۔ پس حضور اقدس ﷺ اس قصہ پر ہنسے میں نے پوچھا کس بات پر ہنسے انہوں نے فرمایا کہ حضرت سعد کے اس فعل پر۔ (شمائل ترمزی حدیث221) حضرت ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں اس شخص کو خوب جانتا ہوں جو سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگا اور اس سے بھی خوب واقف ہوں جو سب سے آخر میں جہنم سے نکالا جائے گا۔ قیامت کے دن ایک آدمی دربار الٰہی میں حاضر کیا جائے گا اس کے لئے یہ حکم ہوگا کہ اس کے چھوٹے چھوٹے گناہ اس پر پیش کئے جائیں کہ تو نے فلاں دن فلاں گناہ کئے ہیں تو وہ اقرار کرے گا۔ اس لئے کہ انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی اور اپنے دل میں نہایت ہی خوفزدہ ہوگا کہ ابھی صغیرہ گناہوں کو پیش کیا گیا ہے۔ کبیرہ کو دیکھیں گے تو کیا ہوگا ؟ اس دوران میں یہ حکم ہوگا کہ اس شخص کے ہر گناہ کے بدلے ایک ایک نیکی دی جائے وہ شخص یہ حکم سنتے ہی خود بو لے گا کہ میرے تو ابھی بہت سے گناہ باقی ہیں جو یہاں نظر نہیں آتے۔ حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ اس کا مقولہ نقل فرما کر ہنسے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہوئے۔ ہنسی اس بات پر تھی کہ جن گناہوں کے اظہار سے ڈررہا تھا ان کے اظہار کا خود طالب بن گیا۔ (شمائل ترمذی حدیث 217) حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس ﷺ سے زیادہ تبسم کرنے والا نہیں دیکھا۔ (مشکاۃ المصابیح حدیث 4748) حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدسﷺ کی پنڈلیاں کسی قدر باریک تھیں اور آپ ﷺ کا ہنسنا صرف تبسم ہوتا تھا۔ جب میں حضور اقدسﷺ کی زیارت کرتا تو دل میں سوچتا کہ آپ ﷺ سرمہ لگائے ہوئے ہیں حالانکہ اس وقت سرمہ لگائے ہوئے نہیں ہوتے تھے۔ (شمائل ترمذی حدیث 214) حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے میرے مسلمان ہونے کے بعد سے کسی وقت مجھے اپنی بارگاہ میں حاضری سے نہیں روکا۔ اور جب مجھے دیکھتے تو ہنستے اور دوسری روایت میں ہے کہ تبسم فرماتے تھے۔ (شمائل ترمذی حدیث 218)

آقاﷺ کا مسکرانا | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya