اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاس الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ۔
مشکاۃ المصابیح (حدیث 5155)روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنھما سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا دو نعمتیں ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھو کے میں ہیں تندرستی اور فراغت۔
نبی کریم ﷺ نے وقت ضائع کرنے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: روزانہ صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اُس وقت "دن" یہ اعلان کرتا ہے: اگر آج کوئی اچّھا کام کرنا ہے تو کرلو کہ آج کے بعد میں کبھی پلٹ کر نہیں آؤں گا۔ رب تعالی پارہ 30 سورہ التکاثر کى آیت نمبر 8 میں فرماتاہے: *"ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠۔"* ترجَمۂ کنزالایمان: پھربیشک ضرور اس دن تم سے نعمتوں کى پرسش(پوچھ گچھ) ہوگى۔ وقت بھى ایک بہت نعمت ہے اس کے بارے میں پرستش ہوگى ،سرکار ﷺ کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن جو سوال ہوں گے ان میں سے ایک سوال یہ ہے کہ عمر کن کاموں میں صرف کى۔ (ترمذى شریف حدیث 2424 ) آقا کریم ﷺ نے فرمایا ؛ روزانہ صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس وقت یہ اعلان کرتاہے کہ اگر آج کوئى کام کرنا ہے تو کرلو کہ آج کے بعد میں پلٹ کر نہیں آؤں گا۔ اگر کوئی وقت کی اہمیت کو نظرانداز کرتے ہوئے اسے ضائع کرتا ہے تو جنت میں جانے کے باوجود بھی افسوس کرے گا چنانچہ حدیث پاک میں فرمایا گیا:"اہلِ جنّت کوکسی چیز کا بھی افسوس نہیں ہوگا سوائے اُس ساعت (یعنی گھڑی ) کے جو (دنیا میں) اللہ پاک کے ذکر کے بغیر گزرگئی"۔ (صحیح البخارِی 4 حدیث 416) وقت کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے سرکار دوعالم ﷺ کا یہ فرمانِ عالی بہترین رہنمائی کرتا ہے: "پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو! جوانی کو بڑھاپے سے پہلے،صِحَّت کو بیماری سے پہلے،مال داری کو تنگدستی سے پہلے، فُرصت کومشغولیّت سے پہلے اور زِندگی کو موت سے پہلے" حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: *"یَا اِبْنَ آدَمَ اِنَّمَا اَنْتَ اَیَّامٌ فَکُلَّمَا ذَھَبَ یَوْمٌ ذَھَبَ بَعْضُکَ"* یعنی اے آدمی !تو ایّام ہی کا مجموعہ ہے، جب ایک روز گزر جائے تو یوں سمجھ کہ تیری زندگی کا ایک حصّہ بھی گزر گیا۔ (المستدرک حدیث 7914)