اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ اَبِيْ قَتَادَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْاِثْنَيْنِ فَقَالَ: ذٰلِكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيْهِ وَيَوْمٌ بُعِثْتُ اَوْ اُنْزِلَ عَلَيَّ فِيْهِ.
فیضان ریاض الصالحین (حدیث 1255)حضرت سیدنا ابو قتادۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول پاک صاحِبِ لولاک ﷺ سے پیر کے روزے کے متعلق پوچھا گیا توفرمایا:اِسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مبعوث کیا گیا (یافرمایا)اوراسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی.
حضرت حَسّان بن ثَابِت رضی اللہُ عنہ مشہور صحابئ رسول ہیں، آپ بھی مدینہ پاک ہی کے رہنے والے تھے، آپ فرماتے ہیں: میں 7سال کا تھا، ایک مرتبہ رات کا پچھلا پہر تھا، اَچانک مدینے کی گلیوں میں ایک زور دار آواز گونج اُٹھی، لوگ اُس آواز کی طرف دوڑ پڑے، کیا دیکھتے ہیں کہ ایک یہودی ہے، پہاڑ پر کھڑا ہے، ہاتھ میں آگ کا شعلہ لئے ہوئے ہے، لوگ اُس کی زور دار آواز سُن کر اس کے گِرد جمع ہو گئے، اب اُس نے بھرے مجمع میں ایک اِعْلان کیا، بولا: *"هَذَا كَوْكَبُ اَحْمَدَ قَدْ طَلَعَ،هَذَا كَوْكَبٌ لَا يَطْلُعُ اِلَّا بِالنُّبُوَّةِ، وَلَمْ يَبْقَ مِنَ الْاَنْبِيَاءِ اِلَّا اَحْمَدُ"* یعنی یہ احمد نبی ﷺ کا ستارہ ہے۔ یہ ستارہ صرف نبی کی وِلادت کے وقت ہی نکلتا ہے، دُنیا میں جتنے نبی تشریف لانے تھے، اُن میں سے صر ف احمد نبی ﷺ ہی ہیں جن کی ابھی وِلادت نہیں ہوئی(یہ ستارہ نشانی ہے کہ آج اُن کی وِلادت کی رات ہے۔ (دلاٸل النبوة للاصبحانی) *حضرت عباس بن مطلب کی جانب سے حضورﷺ کی ولادت کے موقع پر کہے گئے اشعار؛* روایات میں ہے: رسولِ انور، شاہِ بحر و بر ﷺ غزوۂ تبوک سے واپس تشریف لائے، اس وَقْت حضرت عباس بن عبدالْمُطّلب رضی اللہ عنہما نے ذکرمیلاد پر اپنے لکھے ہوئے چند اَشعار پڑھنے کی اجازت چاہی، سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار ﷺ نے اجازت عطا فرمائی تو آپ نے اپنے قصیدۂ مِیْلاد کے اشعار پڑھے، ان میں سے چند اشعار یہ ہیں: *قَبْلَهَا طِبْتَ فِي الظِّلَالِ وَفِي مُسْتَوْدَعٍ حَيْثُ يُخْصَفُ الْوَرَقُ* آپ ولادت سے پہلے سایوں میں تھے یعنی جنت کے اندر، حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی پشت میں *ثُمَّ هَبَطْتَ الْبِلَادَ لَابَشَرٌ اَنْتَ وَلَا مُضْغَةٌ وَلَا عَلَقُ* پھر پشتِ آدم ہی میں زمین پر اترے، تب آپ نہ انسانی صُورت تھے، نہ مُضْغَہ نہ عَلَقَہ(یہ حمل کے ابتدائی دنوں میں بچے کی 2 حالتوں کے نام ہیں) *بَلْ نُطْفَةٌ تَرْكَبُ السَّفِينَ وَقَد اَلْجَمَ نَسْرًا وَأَهْلَهُ الْغَرَقُ* آپ پشتِ نوح میں کشتی پر سُوار ہوئے، جب طوفان نے کُفّار کے جھوٹے خُدا اور اس کے بچاریوں کو ڈبو دیا۔ *تُنْقَلُ مِنْ صَالِبٍ إِلَى رَحِمٍ إِذَا مَضَى عَالَمٌ بَدَا طَبَقُ* آپ پاک پشتوں سے رَحموں کی طرف مُنتقل ہوتے رہے، ایک طبقے کے بعد دوسرا طبقہ ظاہر ہوا *وَأَنْتَ لَمَّا وُلِدْتَ أَشْرَقَتِ الْأَرْضُ وَضَاءَتْ بِنُورِكَ الْأُفُقُ* آپ کی ولادت کے وقت زمین روشن ہوئی، آسمان آپ کے نور سے چمک اُٹھا *فَنَحْنُ فِي الضِّيَاءِ وَفِي النُّورِ وَسُبُلِ الرَّشَادِ نَخْتَرِقُ* ہم اِسی نور کی روشنی میں ہدایت کے راستوں پر چل رہے ہیں۔ (معجم کبیر، حدیث 4057)