logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

مصطفیٰ کریم ﷺکا  اللہ پر توکل

مصطفیٰ کریم ﷺکا اللہ پر توکل

نبی پاک ﷺ کی ذاتی صفات

حدیث

عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: لَوْ أَنَّکُمْ تَتَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ حَقَّ تَوَکُّلِہِ لَرَزَقَکُمْ کَمَا یَرْزُقُ الطَّیْرَ، تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا.

فیضان ریاض الصالحین (حدیث 79)

ترجمہ

حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم رؤف رحیم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اگر تم اللہ عزوجل پر ایسا توکل کرو جس طرح اُس پر توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں ضرور رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح بھوکے پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو شکم سیر واپس آتے ہیں۔

حکایت

ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ آرام فرما رہے تھے کہ غورث بن حارث نے آپ ﷺ کو شہید کرنے کے ارادے سے آپ کی تلوار لے کر نیام سے کھینچ لی ، جب حضور ﷺ نیند سے بیدار ہوئے تو غورث کہنے لگا کہ اے محمد ! اب کون ہے جو آپ کو مجھ سے بچالے گا ؟ آپﷺ نے فرمایا: ”اللہ" ، نبوت کی ہیبت سے تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی اور حضورﷺ نے تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا کہ بول!اب تجھ کو میرے ہاتھ سے کون بچانے والا ہے؟ غورث گڑگڑا کرکہنے لگا کہ آپ ہی میری جان بچادیں، رحمت عالم ﷺ نے اس کو چھوڑ دیا اور معاف فرمادیا۔ چنانچہ غورت اپنی قوم میں آ کر کہنے لگا کہ اے لوگو! میں ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو تمام دُنیا کے انسانوں میں سب سے بہتر ہے۔ (سیرت مصطفیٰﷺ صفحہ 604 تا 605) *توکل کسے کہتے ہیں:* قرآن کریم کے پارہ 4 کی سورۃ آل عمران کی آیت 159 میں ارشادرت عظیم ہے: *فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ * اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کر لوتو اللہ پر بھروسہ کرو! بے شک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں۔ علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: توکل کے معنی ہیں اللہ تبارک و تعالی پر اعتماد کرنا اور کاموں کو اُس کے سپرد (یعنی حوالے)کر دینا، مقصود یہ ہے کہ بندے کا اعتماد تمام کاموں میں اللہ پر ہونا چاہئے۔ *حضورﷺ کا ایک نام:* حضرت سیدتنا اُم درداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے حضرت کعب الاحبار رحمة اللہ علیہ سے پوچھا: تم تورات میں رسول اللہ ﷺ کی کونسی صفت لکھی پاتے ہو؟ فرمایا: ہم یہ لکھا پاتے ہیں: *مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ،اسْمُهُ الْمُتَوَكَّلُ* یعنی محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، ان کا نام متوکل ہے۔ (دلائل النبوہ حدیث 386) ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکرعرض کی: یا رسول اللهﷺ ! میں اپنے جانور کو باندھ کر توکل کروں یا کھلا چھوڑ کر؟ فرمایا: اسے باندھو اور توکل کرو۔ (ترمذى،حدیث :2525) اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عليه رحمة الرحمن فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 280 پر لکھتے ہیں: توکل ترک اسباب اور ان پر جرات کرنا نہیں اور نہ وہ حکمت کے خلاف ہے بلکہ اسباب کو دل سے نکال دینا اور فائدہ بخش چیز کو لینا اور ضرر رساں امور (یعنی نقصان دینے والی باتوں) سے بچنا اور نگاہ کو صرف الله تعالى (جو مسبب الاسباب ہے) پر روکے رکھنا ، اس کی قیود کو ملحوظ رکھنا (توکل على الله)ہے ۔ ( فتاوی رضویہ، 270) ایک اور مقام پر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: نظر مسبب (یعنی اللہ پاک ) پر رکھ کرجائز اسباب رزق کا اختیار کرنا ہرگز منافی توکل (یعنی توکل کے خلاف ) نہیں، توکل ترک اسباب کا نام نہیں بلکہ اعتماد على الاسباب کا ترک (یعنی اسباب پر اعتماد کو چھوڑ دینے کا نام ہے۔ (فتاوی رضویہ 379) *آقاﷺکی دعا:* *"اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ التَّوْفِيقَ لِمَحَابَكَ مِنَ الْأَعْمَالِ وَصِد٘قَ التَّوَكُلِ عَلَيْكَ وَحُسْنَ الظَّنِّ بِكَ"* ترجمہ: اے اللہ! میں تجھ سے تیرے پسندیدہ اعمال کی توفیق، تجھ پر سچے توکل اور تیرے متعلق اچھے گمان کا سوال کرتا ہوں۔ (حلية الأولياء ،حديث 12051)

اہم نکات

  • رزق کے ‏لیے تگ و دو ضرور کرنی چاہیے، حصولِ رزق کی کوشش ہرگز توکل کے خلاف نہیں ۔
  • حق توکل یہ ہے کہ فاعل حقیقی الله تعالٰی کو ہی جانا جائے ۔
مصطفیٰ کریم ﷺکا اللہ پر توکل | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya