اسلامک ڈیسک کی جانب سے


أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ کَانَ الْمَسْجِدُ مَسْقُوفًا عَلَی جُذُوعٍ مِنْ نَخْلٍ فَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَقُومُ إِلَی جِذْعٍ مِنْهَا فَلَمَّا صُنِعَ لَهُ الْمِنْبَرُ وَکَانَ عَلَيْهِ فَسَمِعْنَا لِذَلِکَ الْجِذْعِ صَوْتًا کَصَوْتِ الْعِشَارِ حَتَّی جَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَسَکَنَتْ۔
صحیح بخاری، کتاب الانبیاء، (حدیث3585)حضرت حفص بن عبیداللہ بن انس بن مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مسجد نبوی کی چھت کھجور کے تنوں پر بنائی گئی تھی۔ نبی کریم ﷺ جب خطبہ کے لیے تشریف لاتے تو آپ ان میں سے ایک تنے کے پاس کھڑے ہوجاتے لیکن جب آپ ﷺ کے لیے منبر بنادیا گیا تو آپ ﷺ اس پر تشریف لائے۔ پھر ہم نے اس تنے سے اس طرح کی رونے کی آواز سنی جیسی بوقت ولادت اونٹنی کی آواز ہوتی ہے۔ آخر جب نبی کریم ﷺ نے اس کے قریب آ کر اس پر ہاتھ رکھا تو وہ چپ ہوا۔
سرکارِ عالی وقار ، مکی مدنی تاجدار ﷺ اس ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ پھر آپ ﷺ کے لئے لکڑی کا منبر بنا دیا گیا ، جمعہ کا دِن تھا ، سرکار اعظم ، نورمجسم ﷺ مسجد میں تشریف لائے ، منبر پر تشریف فرما ہوئے تو اچانک کسی کے رونے کی آواز آنے لگی (جیسے کوئی بچہ بڑے دَرْد سے بلبلا کر رو رہا ہو ) ، دیکھا گیا تو وہی کھجور کے سُوکھے تنے کا سُتون جس کے ساتھ ٹیک لگا کر دوجہاں کے تاجدار ﷺ خطبہ دیا کرتے تھے ، فراقِ مصطفےٰ میں پھُوٹ پھُوٹ کر رو رہا تھا ، رحمتِ دوجہان ، مکی مدنی سلطان ﷺ سے اُس کا رونا دیکھا نہ گیا ، آپ ﷺ منبر مبارک سے نیچے اُترے ، اس سُتُون کے قریب تشریف لائے ، اس پر دستِ شفقت رکھا اوربُخاری شریف میں الفاظ ہیں کہ رحمتِ عالَم ، نور مجسم ﷺ نے اس سُتون کو چُپ کروانے کے لئے سینے سے لگا لیا ، اب کیا تھا ، جیسے روتے ہوئے بچے کو ماں سینے سے لگائے تو وہ ہلکی ہلکی سسکیاں لینے لگتا ہے ، وہ ستون بھی ایسے ہی سسکیاں لینے لگا ، یہاں تک کہ چُپ ہو گیا۔ (صحیح بخاری) حضور ﷺ نےفرمایا جس نے کوئی درخت لگایا اور اُس کی حفاظت اور دیکھ بھال پر صبر کیا یہاں تک کہ وہ پھل دینے لگا تو اُس میں سے کھایا جانے والا ہر پھل اللہ پاک کے نزدیک(اس لگانے والے) کے لیے صدقہ ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آقا کریم ﷺ نے فرمایا جس نے کسی ظلم و زیادتی کے بغیر کوئی گھر بنایا یا ظلم و زیادتی کے بغیر کوئی درخت اگایا ، جب تک اللہ پاک کی مخلوق میں سے کوئی ایک بھی اس میں سے نفع اٹھاتا رہے گا تو اس (لگانے والے) کو ثواب ملتا رہے گا۔ (مسند امام احمد)