logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

پیارے نبیﷺ کا سلسلہ نسب

پیارے نبیﷺ کا سلسلہ نسب

نبی پاک ﷺ کی ذاتی صفات

حدیث

عَنْ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَی کِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَعِيلَ وَاصْطَفَی قُرَيْشًا مِنْ کِنَانَةَ وَاصْطَفَی مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ۔

صحیح بخاری (حدیث 5932)

ترجمہ

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے کنانہ کو چنا اور کنانہ میں سے قریش کو چنا اور قریش میں سے بنی ہاشم کو چنا اور پھر بنی ہاشم میں سے مجھے چنا۔

حکایت

نبی اکرم ﷺ کا تعلق حضرت اسماعیل کی نسل سے تھا جنہیں عام طور پر بنو اسماعیل (اسماعیل کی اولاد) کہا جاتا ہے۔ حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ایک بیٹے کا نام قدیر (کیدار) تھا جن کی نسل میں سے حضرتِ عدنان مشہور ہوئے جو عرب کے تمام عدنانی قبیلوں کے جد اعلیٰ تھے۔ رسول اللہﷺ کا تعلق بھی عدنانیوں کی ایک شاخ سے تھا جو "قریش" کے نام سے جانی جاتی تھی۔ یہ شاخ فہر بن مالک کی اولاد میں سےتھی۔ (تاریخ ابن خلدون، ج-2ص63) سیرت نگاروں اور ماہرینِ انساب کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ حضرت محمد ﷺکا سلسلۂِ نسب ان کے جد ِامجد حضرتِ عدنان تک نہایت ہی صداقت اور درستگی کے ساتھ درج ہے۔ حضور ﷺ کے والدین کا نسب نامہ ’’کلاب بن مرہ ‘‘ پرمل جاتا ہے اور آگے چل کر دونوں سلسلے ایک ہو جاتے ہیں۔’’ عدنان‘‘ تک آپﷺ کا نسب نامہ صحیح سندوں کے ساتھ باتفاق مؤرخین ثابت ہے اس کے بعد ناموں میں بہت کچھ اختلاف ہے اور حضور ﷺ جب بھی اپنا نسب نامہ بیان فرماتے تھے تو ’’عدنان‘‘ ہی تک ذکر فرماتے تھے۔ حضرتِ عدنان تک حضور ﷺکا شجرہ نسب ناقابل تردید طور پر واضح ہے جو بیس (20) واسطوں سے ہوتا ہوا ان تک پہنچتا ہے۔ اس حوالہ سے ابن ہشام فرماتے ہیں: *"محمد بن عبد الله ابن عبد المطلب ( شيبة) بن هاشم، (عمرو) بن عبد مناف (المغيرة) بن قصي (زيد) بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر (قریش) بن مالك بن النضر (قیس) ابن كنانة بن خزيمة بن مدركة، (عامر) بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان بن أد (أدد)."* محمد بن عبد الله ابن عبد المطلب ( شيبہ) بن ہاشم (عمرو) بن عبد مناف(المغيرہ) بن قصی (زيد) بن كلاب بن مرہ بن كعب بن لؤی بن غالب بن فہر (قریش) بن مالك بن النضر (قیس) بن كنانہ بن خزيمہ بن مدركہ (عامر) بن الياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان بن أد (أدد)۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ھشام،ص 1/2) ایک اندازے کے مطابق حضرتِ عدنان کی پیدائش ایک سو بائیس (122) قبل مسیح میں ہوئی تھی جبکہ فہر بن مالک دوسو آٹھ (208) عیسوی میں پیدا ہوئے تھے۔ مؤرخین کے اندازہ کے مطابق حضرت ابراہیم اور اسماعیل کا دور دوہزار (2000) سال قبل مسیح کا تھا۔ اس طرح حضرت محمد ﷺ اور حضرت ابراہیم کے درمیان ایک اندازے کے مطابق پچیس(25)صدیوں کا فاصلہ ہے جبکہ عدنان اور ابراہیم کے درمیان تقریباً اٹھارہ (18) صدیوں کا فاصلہ ہے۔ حضرت عدنان اورحضرت ابراہیم کے درمیان 40 واسطےتھے۔ ابراہیم اور حضرتِ عدنان کے درمیان تقریباً 1800 سال کا فرق ہے اور یہ ناممکن ہے کہ ان کے درمیان صرف 10، 15 یا 20 آباؤ اجداد ہوں۔ آپ ﷺکی قوم، قبیلہ، خاندان اور گھر تمام مخلوقات میں بہترین ہیں۔ امام ترمذی نے رسول اللہ ﷺ کا یہ قول نقل کیا ہے: *"الخلق فجعلني من خيرهم من خير فرقهم وخير الفريقين، ثم تخير القبائل فجعلني من خير قبيلة، ثم تخير البيوت فجعلني من خير بيوتهم، فأنا خيرهم نفسا، وخيرهم بيتا۔"* بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی تخلیق کی، پھر مجھے ان میں سے بہترین گروہ میں رکھا۔ پھر ان کو دو گروہوں میں تقسیم کیا، پھر مجھے ان میں سے بہترین گروہ میں رکھا، پھر ان کو قبیلوں کی شکل دی، پھر مجھے ان میں سے بہترین قبیلہ میں رکھا ۔ پھر ان کوخاندان کی شکل دی، اور مجھے ان میں سے بہترین خاندان میں رکھا ، پھر اس نے مجھے رشتہ داری اور نسب میں ان میں سب سے بہتر رکھا۔ (سنن الترمذي، حدیث:3607) حضرت محمد ﷺ کے نسب کی عظمت اور شرافت عرب میں اس قدر مشہور و معروف تھی کہ مخالفین نے بھی اس کی عظمت کو تسلیم کیا۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے حضرت ابو سفیان بن حرب نے رومی شہنشاہ ہرقل کے دربار میں اس بات کا اقرار کیا تھاکہ محمد ﷺ ان میں سب سے معزز ہیں۔ ہرقل نے حضرت ابو سفیان بن حرب سے رسول اللہﷺ کے نسب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ محمد ﷺ پاکیزہ اور بہترین نسب والے ہیں۔ (،دلائل النبوة،ص377)

پیارے نبیﷺ کا سلسلہ نسب | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya