اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّهُ مَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ:كَانَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ .
(فیضان ریاض الصالحین، حدیث 862)حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار وہ بچوں کے پاس سے گزرے توانہیں سلام کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
حضرت سیار رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ثابت بنانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ جا رہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا، حضرت ثابت نے (اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے) کہا : میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ (جارہا) تھا وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے سلام کیا، پھر حضرت انس نے (اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے) کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ﷺ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا۔ (صحیح بخاری حدیث 6247) نبی کریم ﷺ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : اے میرے بیٹے جب تم اپنے گھر جاؤ تو گھر والوں کو سلام کیا کرو یہ تمہارے اور گھر والوں کے لئے باعثِ برکت ہوگا۔ حضور نبی کریم ﷺ بچوں کو آدابِ شریعت سکھانے کے لئے انہیں سلام کیا کرتے تھے۔ بچوں کو سلام کرنے میں تواضع،انکساری اور نرمی کا پہلو بہت نمایاں ہوتاہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا بچوں کوسلام کرنا آپ ﷺ کے اچھے اخلاق میں سے ہے اور اس میں بچوں کوسنتوں کی تعلیم دینے کی مشق اور آدابِ شریعت کی تربیت بھی مقصود ہے۔ (فیضان ریاض الصالحین 862 )