logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

حضور ﷺ کا نیکی کا حکم دینا اور برائ سے منع کرنا

حضور ﷺ کا نیکی کا حکم دینا اور برائ سے منع کرنا

نبی پاک ﷺ کی اخلاقی صفات

حدیث

عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : مَنْ رَاَی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہِ فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہِ فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہِ وَذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ

فیضان ریاض الصالحین (حدیث 184)

ترجمہ

حضرت سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھےتو اسے اپنے ہاتھ سے بدل دےاور اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا توزبان سے روکے اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو دل ہی میں بُرا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔

حکایت

علامہ محمد بن علّان شافعی رحمۃ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:جب لوگ ظالم کو ظلم یا گناہ کرتا دیکھیں اور اسے ہاتھ سے روکنے پر قدرت ہونے کے باوجود نہ روکیں یا زبان سے منع نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ پاک ان سب پر عذاب نازل فرما دے، ظالم پر تو ظلم کرنے کی وجہ سے اور اس کے علاوہ لوگوں پر قدرت ہونے کے باوجود اسے نہ روکنے کی وجہ سے، البتہ جو لوگ گناہگار کو روکنے سے عاجز ہوں اس طور پر کہ انہیں اپنی جان یا مال کے ضائع ہونے کا خوف ہو یا اس بات کا خطرہ ہو کہ اگر یہ اسے منع کریں گے تو وہ رکنے کے بجائے اس سے بڑے گناہ میں پڑ جائے گا، (دلیل الفالحین حدیث 198) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ ! ہم اُس وقت تک نیکی کا حکم نہیں دیں گے جب تک ہم مکمل طور پر خود اس پر عمل نہیں کر لیتے اور نہ اُس وقت تک برائی سے منع کریں گے جب تک ہم مکمل طور پر خود اس سے اجتناب نہیں کر لیتے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: (نہیں) بلکہ نیکی کا حکم دو اگرچہ تم مکمل طور پر اس پر عمل نہ کر سکو اور برائی سے منع کرو اگرچہ مکمل طور پر اس سے اجتناب نہ کر سکو (یعنی اگر کسی حد تک عمل کرتے ہو تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کافریضہ ادا کرو)۔ (معجم اوسط حدیث6628) علّامہ ملَّا علی قَاری علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں : جو کوئی ایسا کام ہوتے ہوئے دیکھے جس سے شریعت نے منع کیا ہے تو اسے چاہیے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روک دے۔ اس طورپر کہ اس شخص کو اس فعل سے منع کرے ، اس گناہ کے آلات کو توڑ دے ، شراب وغیرہ کو بہا کر ضائع کردے اور اگر وہ چھینی ہوئی چیز ہے تو اس کے مالک تک پہنچادے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: راستوں میں بیٹھنے سے بچتے رہنا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! ہمیں ایسی جگہوں پر بیٹھنے کے سوا چارہ کار نہیں کیونکہ ہم بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں، فرمایا: اگر تمہارا راستوں میں بیٹھنا ضروری ہے تو راستے کا حق ادا کر دیا کرو۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے عرض کیا: یارسول اللہﷺ! راستے کا حق کیا ہے؟ فرمایا: نظریں نیچی رکھنا، تکلیف دہ چیز کا (راستہ سے) ہٹا دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کا حکم دینا اور بری باتوں سے منع کرنا۔ (صحیح بخاری حدیث 5875) سیدنا عُرْس بن عمیرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبیِّ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کسی مقام پر بُرائی ہو رہی ہو اور وہاں موجود شخص اس کو ناپسند کرتا ہے (اور ایک روایت میں ہے: اس کا انکار کرتا ہے) تو وہ ایسا ہے گویا وہاں موجود ہی نہیں اور جو وہاں موجود نہیں مگر اس بُرائی پر راضی ہے تو وہ ایسا ہے جیسا وہاں حاضر ہے۔ (ابو داؤد،حدیث: 4354) حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: (بروزِ قیامت) ایک شخص کو لایا جائے گا پھر اسے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ وہ اس کے اندر اس طرح گھومے گا جیسے چکّی چلانے والا گدھا گھومتا ہے۔ جہنمی اس کے گرد جمع ہوجائیں گے اور پوچھیں گے: اے فلاں! کیا تو وہی نہیں ہے جو دوسروں کو اچھی باتوں کا حکم دیتا تھا اور بری باتوں سے منع کیا کرتا تھا؟ وہ جواب دے گا: ہاں میں اچھی باتوں کا حکم تو دیتا تھا لیکن خود اس پر (کما حقہ) عمل نہیں کرتا تھا اور برے کاموں سے منع کرتا تھا لیکن خود اس سے باز نہیں رہتا تھا۔ (صحیح بخاری حدیث 6685)

اہم نکات

  • کسی بھی بُرائی کو دیکھ کر اُسے جس طرح ممکن ہو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
  • سب سے پہلے آدمی اپنے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے ، ورنہ زبان سے روکے اور اگر زبان سے بھی روکنے پر قدرت نہ ہو تو پھر دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور درجہ ہے۔
حضور ﷺ کا نیکی کا حکم دینا اور برائ سے منع کرنا | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya