اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاقَالَتْ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، يَقُوْلُ فِيْ بَيْتِيْ هٰذَا:ا َللّٰهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ اَمْرِ اُمَّتِي شَيْئاً فَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ اَمْرِ اُمَّتِي شَيْئاً فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ.
فیضان ریاض الصالحین (حدیث655)امُّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صد یقہ طیّبہ طاہرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے اس گھر میں رسول اللہ ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا:’’اے اللہ عز وجل! جومیری اُمَّت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور پھر ان پر سختی کرے توتُو بھی اسے مشقت میں مبتلا فرمااور جو میری اُمَّت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اوران سے نرمی سے پیش آئے تو تُو بھی اس سے نرمی والا سلوک فرما۔
سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:چار(قسم کے) لوگوں کو اللہ عزوجل پسندنہیں فرماتا: قسم کھا کر مال بیچنے والا متکبر فقیر بوڑھا زانی اور ظالم حاکم۔ شہنشاہِ کون ومکان رحمتِ عالَمیان ﷺ جب اپنے کسی صحابی کو اپنے کچھ کاموں کے لیے والی ونگران بناکر بھیجتے تو اس سے فرماتے : خوشخبری دو متنفر نہ کرو اور آسانی کرو سختی وتنگی نہ کرو۔ (فیضان ریاض الصالحیں 655) روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو مسلمانوں کا قاضی بننا طلب کرے حتّی کہ اسے پالے پھر اس کاانصاف اس کے ظلم پر غالب ہو تو اس کے لیے جنّت ہے اور جس کا ظلم اس کے انصاف پر غالب ہو اس کے لیے دوزخ ہے (مراۃ المناجیح حدیث 3736) روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ ﷺ کو فرماتے سنا کہ نہیں ہے کوئی بندہ جسے اﷲ تعالٰی کسی رعیت کا والی بنائے پھر رعایا کی خیرخواہی سے حفاظت نہ کرے مگر وہ جنت کی خوشبو نہ پائے گا۔ (مراۃ المناجیح حدیث 3687) حضرت سیدنا ابو یعلیٰ معقل بن یسار رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہےکہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب اللہ عزوجل اپنے کسی بندے کو رعایا پر حاکم بنائے اور وہ اس حال میں مرے کہ اپنی رعایا کو دھوکا دیتا ہوتو اللہ عزوجل اس پر جنت حرام فرما دے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ خیر خواہی کے ساتھ اُن کا خیال نہ رکھے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا ۔ (فیضان ریاض الصالحین حدیث 654)