logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

حضورﷺ کا دوسروں کی مدد کرنا

حضورﷺ کا دوسروں کی مدد کرنا

نبی پاک ﷺ کی اخلاقی صفات

حدیث

عَنِ ابْنَ عُمَرَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:الْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ مَنْ كَانَ فِىْ حَاجَةِاَخِيْهِ كَانَ اللَّهُ فِىْ حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِھَاكُرْبَةً مِنْ کُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

صحیح بخاری (حدیث 2442)

ترجمہ

حضرت سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے ظالم کے حوالے کرے ۔ جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے گا تو اللہ عزوجلّ اس کی حاجت پوری فرمائے گا اور جس نے اپنے کسی مسلمان بھائی کی ایک مصیبت کو دُورکیا تو اللہ عزوجل اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت دُور فرمائے گااور جس نے کسی مسلما ن کی دنیا میں پردہ پوشی کی تو اللہ عزّوجل قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔

حکایت

حضرت سیدنا ابو عمرو جریر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی وقت میں رسول اللہﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھے۔آپ ﷺ کے پاس کچھ بے لباس لوگ آئے جنہوں نے اُون کی دھاری دار چادریں یا ٹاٹ کی چادریں پہنی ہوئی تھیں اوران کی گردنوں میں تلواریں لٹکی ہوئی تھیں ، ان میں سے اکثر بلکہ سب کے سب قبیلہ مُضَر سے تعلق رکھتے تھے۔اُن کو اِس فقر وفاقہ کی حالت میں دیکھ کر نبی کریم ﷺ کا چہرہ اَنور متغیر ہوگیا۔ آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے پھر باہر تشریف لائے اور حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اذان کا حکم دیا سیدنابلال رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اذان دی اور اقامت کہی اور آپ ﷺ نے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا اوریہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی: *"یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءًۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا"* (پ4، النساء:1) ترجمۂ کنزالایمان:اے لوگو اپنے ربّ سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مردوعورت پھیلادیے اوراللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بے شک اللہ ہروقت تمہیں دیکھ رہا ہے پھریہ دوسری آیت پڑھی جو سورۂ حشر کے آخرمیں ہے: *"یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ"* (پ28، الحشر:18) ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والواللہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کے ‏لیےکیا آگے بھیجا۔ پھر ارشاد فرمایا: لوگ اپنے دینار، درہم، کپڑوں ، ایک صاع گندم، ایک صاع کھجوروں میں سے کچھ نہ کچھ صدقہ کریں اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اس فرمانِ جنت نشان کو سننے کے بعد ایک انصاری صحابیﷺ ایک تھیلی لائے جس کےوزن کی وجہ سے ان کاہاتھ تھکنے والا تھا بلکہ تھک ہی چکا تھا۔اس کے بعد لوگ دھڑا دھڑ اپنے صدقات بارگاہِ رسالت میں پیش کرنے لگےیہاں تک کہ میں نے غلے اور کپڑے کے دو ڈھیر دیکھے اور میں نے دیکھا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا چہرۂ انورخوشی سےکُنْدَن (یعنی خالص سونے) کی طرح چمک رہا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے اسلام میں کوئی نیک اور اچھاطریقہ ایجاد کیا تواُسے اُس کا اَجر ملے گا اور بعد میں اُس پر عمل کرنے والوں کا بھی اجر ملے گا اوراُن عمل کرنے والوں کے اجر میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ ایجاد کیا تو اُسے اس کاگناہ ملے گا اور بعد میں اُس پر عمل کرنے والوں کا بھی گناہ ملے گااور اُن عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔ ‘ (فیضان ریاض الصالحین) سرکارِ عالی وقارﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی اپنے بھائی کو نفْع پہنچا سکتا ہوتو اُسے نَفع پہنچائے۔ (صحیح مسلم حدیث: 5731) فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے جو کسی مسلمان کی پریشانی دور کرے گا اللہ عزّوجلّ قیامت کی پریشانیوں میں سے اس کی ایک پریشانی دورفرمائے گا حضرت سیِدنا علامہ ملّا علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مومن اگرچہ فاسق ہو اس کے ایمان کی رعایت کرتے ہوئے فانی دنیا کی کوئی پریشانی، غم یا سختی دور کی اگرچہ چھوٹی سی ہو تو اللہ پاک قیامت کی پریشانیوں میں سے اس کی ایک پریشانی دور فرمائے گا۔ (صحیح مسلم حدیث 6578) حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما ،دونوں روایت کرتے ہیں کہ:حضور نبی اکرم ﷺ نے فر مایا:جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے کام کے سلسلے میں چلتا ہے یہاں تک کہ اسے پورا کردیتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس پر پانچ ہزار (اور دوسری روایت میں ہے کہ)پچھتر(75) ہزار فر شتوں کا سایہ کر دیتا ہے ۔وہ فرشتے اس کے لئے اگر دن ہوتو رات ہونے تک اور رات ہو تو دن ہونے تک دعائیں کرتے رہتے ہیں اور اس پر رحمت بھیجتے رہتے ہیں۔ اور اس کے اٹھنے والے ہر قدم کے بدلے اس کے لئے نیکی لکھی جاتی ہے اور اس کے رکھنے والے ہر قدم کے بدلے اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔ (شعب الایمان حدیث 7669)

اہم نکات

  • کسی مسلمان کی مدد کرنا اس کی مشکل میں اس کے کام آنا بہترین عمل ہے۔
  • رب تعا لٰی اپنے بندے کی مدد فرماتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔
حضورﷺ کا دوسروں کی مدد کرنا | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya