logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

پیارے آقا ﷺ کا پڑسیوں سے حسن سلوک

پیارے آقا ﷺ کا پڑسیوں سے حسن سلوک

نبی پاک ﷺ کی اخلاقی صفات

حدیث

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا زَالَ جِبْرِيْلُ يُوصِيْنِيْ بِالْجَارِ حَتّٰى ظَنَنْتُ اَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ۔

فیضان ریاض الصالحین (حدیث 303)

ترجمہ

حضرت سیدنا ابن عمر اور ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جبریل علیہ السَّلام مجھے پڑوسی کے بارے میں مسلسل تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو وارث ہی بنا دیں گے۔

حکایت

حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : ’’میرا ایک پڑوسی ہے جو مجھے تکلیف پہنچاتا ہے ، بُرا بھلا کہتا اور مجھ پر تنگی کرتا ہے۔ ‘‘آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : ’’واپس جاؤ! اگر ا س نے تمہارے بارے میں اللہ عزوجل کی نافرمانی کی ہے تو تم اس کے بارے میں اللہ عزوجل کی فرمانبرداری کرو۔ (فیضان ریاض الصالحین حدیث 309) حضرت سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے ، سرکارِ مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پڑوسی تین ہیں : (1)وہ پڑوسی جس کا ایک حق ہے اور حق کے اعتبار سے ادنی پڑوسی ہے۔ (2)وہ پڑوسی جس کے دو حق ہیں۔ (3)وہ پڑوسی جس کے تین حق ہیں اور یہ حق کے اعتبار سے افضل پڑوسی ہے۔ بہر حال وہ پڑوسی جس کا ایک حق ہے تو یہ وہ مشرک پڑوسی ہے جس کے ساتھ کوئی رشتہ داری نہیں صرف حق پڑوس ہے۔ جس کے دو حق ہیں تو یہ وہ مسلمان پڑوسی ہے جو رشتہ دار نہیں ، اس کے لئے حقِ اسلام اور حق پڑوس ہے۔ وہ پڑوسی جس کے تین حق ہیں تو یہ وہ مسلمان پڑوسی ہے جس کے ساتھ رشتہ داری ہو ، اس کے لئے حقِ اسلام ، حقِ جوار اور رشتہ داری کا حق ہے۔ (فیضان ریاض الصالحین حدیث 303) نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا: جس کے شر سے اُس کا ”پڑوسی“ بے خوف نہ ہو وہ جنّت میں نہیں جائے گا۔دوسری روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے ”پڑوسی“ کو تکلیف دی بے شک اُس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اُس نے اللہ کو ايذا دی، نیز جس نے اپنے ”پڑوسی“ سے جھگڑا کيا اس نے مجھ سے جھگڑا کیا اور جس نے مجھ سے لڑائی کی بے شک اس نے اللہ سے لڑائی کی۔ (الترغیب والترہیب حدیث 3907) پڑوسی کے حقوق بیان فرماتے ہوئے نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا: اگر وہ بيمار ہو تو اس کی عِيادت کرو، اگر فوت ہوجائے تو اس کے جنازے ميں شرکت کرو، اگر قرض مانگےتو اسے قرض دے دو اور اگر وہ عيب دار ہوجائے تو اس کی پَردہ پوشی کرو۔ (معجم الکبیر حدیث 1014) *پڑوسی کے حقوق؛ * نبی اکرم ﷺ نے فرمایا پڑوسی کے گیارہ حق ہیں: (1)جب اسے تمہاری مدد کی ضرورت ہو اس کی مددکرو۔ (2)اگر معمولی قرض مانگے دے دو۔ (3)اگر وہ غریب ہو تو اس کا خیال رکھو۔ (4)وہ بیمار ہو تو مزاج پرسی بلکہ ضرورت ہو تیمارداری کرو۔ (5)مرجائے تو جنازہ کے ساتھ جاؤ۔ (6)اس کی خوشی میں خوشی کے ساتھ شرکت کرو۔ (7)اس کے غم و مصیبت میں ہمدردی کے ساتھ شریک رہو۔ (8)اپنا مکان اتنا اونچا نہ بناؤ کہ اس کی ہوا روک دو مگر اس کی اجازت سے۔ (9)گھر میں پھل فروٹ آئے تو اسے ہدیۃً بھیجتے رہو نہ بھیج سکو تو خفیہ رکھو اس پر ظاہر نہ ہونے دو، تمہارے بچے اس کے بچوں کے سامنے نہ کھائیں۔ (10)اپنے گھر کے دھوئیں سے اسے تکلیف نہ دو۔ (11)اپنے گھر کی چھت پر ایسے نہ چڑھو کہ اس کی بے پردگی ہو۔ قسم اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے پڑوسی کے حقوق وہ ہی ادا کرسکتا ہے جس پر اللہ رحم فرمائے۔ (مراۃ المناجیح حدیث 4243)

اہم نکات

  • پڑوسی کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک سے پیش آئیے، کیونکہ پڑوسی کو تکلیف نہ دینے والے کو کامل ایمان والوں میں شمار کیا گیا ہے۔
  • بزرگانِ دِین اپنے پڑوسیوں کے لئے بھی وہی کچھ پسند کرتے تھے جو اپنے لئے پسند کرتے تھے ۔ کھانے پینے کی اشیاء پڑوسیوں کو بھیجنے کی احادیث میں ترغیب دلائی گئی ہے
  • پڑوسی کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کو برداشت کرنا ہی پڑوسی کا حق نہیں بلکہ تکلیف برداشت کرنے کے ساتھ اس سے حسن سلوک کرنا بھی اس میں شامل ہے۔
پیارے آقا ﷺ کا پڑسیوں سے حسن سلوک | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya