اسلامک ڈیسک کی جانب سے


وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ:لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا سَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلٰكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ.
مشکاۃ المصابیح (حدیث 5820)روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نہ تو عادۃ بری باتیں کرتے تھے اور نہ تکلفا نہ بازاروں میں شور کرنے والے تھے اور برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے لیکن معافی دیتے تھے اور درگزر کرتے تھے۔
ایک مرتبہ امُّ المؤمنین حضرت عائشہ صِدّیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی پاک ﷺ سے دریافت کیا : کیا جنگ اُحد کےدن سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آپ پر آیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشادفرمایا: ہاں اے عائشہ! وہ دن میرے لئے جنگ ِاُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت تھا، جب میں نے طائِف میں وہاں کے ایک سردار *"اِبْنِ عَبْدِ یَا لِیْل"*کو اسلام کی دعوت دی۔ اس نے میری دعوت کو رَد کر دیا اور طائِف والوں نے مجھ پر پتھر برسائے۔ میں اسی غم میں سرجھکائے چلتا رہا، یہاں تک کہ مقام *" قَرْنُ الثَّعالِب"*پہنچا۔ وہاں پہنچ کر جب میں نے سر اُٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بادل مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے، اس بادل میں سے جبریل علیہ السّلام نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ پاک نے آپﷺ کی قوم کا قول اور ان کا جواب سن لیا اور اب آپﷺ کی خدمت میں پہاڑوں کا فرشتہ حاضر ہے تاکہ وہ آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل کرے۔ پیارے آقاﷺ فرماتے ہیں کہ پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے سلام کرکے عرض کی:اے محمد ﷺ! اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں *"اَخْشَبَیْن"*(ابُوقُبَیْس اورقُعَیْقَعان) دونوں پہاڑوں کو ان کفار پر اُلٹ دوں تو میں اُلٹ دیتا ہوں۔ یہ سُن کر رحمت عالَمﷺ نے ارشاد فرمایا: نہیں، بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ پاک ان کی نسلوں سے اپنے ایسے بندوں کو پیدا فرمائے گا،جو صرف اللہ ہی کی عبادت کریں گےاور شرک نہیں کریں گے۔ نبیِ پاکﷺ کی سیرتِ طیبہ پر عمل کرتے ہوئے صبر،نرمی ، بردباری اور عَفْو و دَرگزر کا مظاہرہ کرنا چاہئے کیونکہ غُصّے کو پینا اور لوگوں سے دَرگُزر کرنا ایسا بہترین عمل ہے کہ جس کے سبب ہمارا شمار اللہ پاک کے پسندیدہ بندوں میں ہوجاتا ہے، چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: *"وَالْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ"*۔ (پ 4،آل عمران : 134) اور غصّہ پینے والے اور لوگو ں سے درگُزرکرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔ اِسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے : *"وَلْیَعْفُوْاوَلْیَصْفَحُوْا -اَلَاتُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْؕ- وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ"*۔ (پ 18، النور:22) اور چاہئے کہ مُعاف کریں اور درگزر یں کیاتم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تمہاری بخشش کرے اور اللہ بخشنے والامہربان ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن اعلان کیا جائے گا جس کا اجر اللہ پاک کے ذمہ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہوجائے، پوچھا جائے گا کس کے لیے اجر ہے؟منادی اعلان کرنے والا کہے گا ان لوگوں کے لیے جو معاف کرنے والے ہیں تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلا حساب جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ نبیِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سب سے زیادہ طاقتور وہ ہے جو غصّہ کے وقت خود پر قابو پالے اور سب سے زیادہ بُردبار وہ ہے جو طاقت کے باوجود معاف کردے۔ (سیرت رسول عربی ﷺ ص 294)