logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

 حضور ﷺ کی قناعت پسندی

حضور ﷺ کی قناعت پسندی

نبی پاک ﷺ کی اخلاقی صفات

حدیث

عَنْ اَبِيْ مُحَمَّدٍ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدِالْاَنْصَاريِّ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:”طُوبیٰ لِمَنْ هُدِيَ اِلَى الْاِسْلَامِ، وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَقَنَعَ.

(فیضان ریاض الصالحین حدیث 513)

ترجمہ

حضرتِ سیدنا ابو محمد فضالہ بن عُبید انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا:”خوشخبری ہے اس کے لیے جسے اسلام کی ہدایت ملے،گزر بسر ضرورت کے مطابق ہو اوروہ قناعت اختیار کرے۔“

حکایت

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ :ایک روز حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دوپہرکو مسجد کی طرف روانہ ہوئے ۔حضرت عمر کو پتہ چلاتو آپ بھی اسی وقت چلچلاتی دھوپ میں باہر نکل آئے اور مسجد کی طرف چل پڑے ۔انہوں نے جب حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کو مسجد کی طرف جاتے ہوئے دیکھا تو پوچھا :*یا ابا بکر ما اخرجک فی ھذہ الساعۃ*۔اے ابو بکر ! اس وقت آپ کیوں گھر سے نکل کرمسجد کی طرف آئے ہیں ؟آپ نے جواب دیا بھوک اور فاقہ کی وجہ سے کسی پہلو آرام نہیں آرہا تھا اس لئے مسجد جانے کا ارادہ کیا۔آپ نے عرض کیا :اس ذات کی قسم!جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں بھی اس چلچلاتی دھوپ میں اسی وجہ سے مسجد کی طرف جارہاہوں ۔اسی دوران شاہ دوعالم ﷺ بھی تشریف لائے اور اپنے دونوں صحابہ سے پوچھا کہ اس وقت تم دونوں گھر سے نکل کر کدھر جارہے ہو؟دونوں نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ!مسلسل بھوک کی وجہ سے کسی پہلو قرار نہیں آرہا تھا اس لئے خانہء خدا میں جانے کا ارادہ کیا۔حضور سرور عالم ﷺ نے ارشاد فر مایا: *انا والذی نفسی بیدہ ما اخرجنی غیرہ*۔قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے!میں بھی اسی وجہ سے گھر سے نکل کر آیا ہوں۔ حضور ﷺ اور دونوں حضرات حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے ۔انہیں جب حقیقت حال کا پتہ چلا تو انہوں نے ایک بکری کو ذبح کیا اور پکا کر حضور ﷺکی خدمت میں پیش کیا سرور عالم ﷺ نے اس بھنی ہوئی بکری کا ایک حصہ کاٹا ،اسے روٹی پہ رکھا اور فرمایا:اے ابو ایوب!یہ(میری لخت جگر)فاطمہ کو پہنچادو۔کیو نکہ اس نے بھی کئی دنوں سے کچھ نہیں کھایا ہے۔ (ضیاء النبی، جلد ۵؍ص: 380) *قناعت کی تعریف:* قناعت کا لغوی معنی قسمت پر راضی رہنا ہے اور صوفیاء کی اصطلاح میں روز مرہ استعمال ہونے والی چیزوں کے نہ ہونے پر بھی راضی رہنا قناعت ہے۔ رسولِ اکرمﷺ کا ارشادِ گرامی ہے،’’دو بُھوکے بھیڑیے جو بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیے گئے ہوں، وہ اُن بکریوں کو اتنا تباہ نہیں کرسکتے، جتنا مال و جاہ کی حرص آدمی کے دین کو تباہ کرتی ہے۔ روزو شب کا مشاہدہ اور تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ایک مملکت کا حاکم اور بادشاہ بھی اپنی حکومت و مملکت پر قناعت نہیں کرتا۔ وہ ہوسِ اقتدار میں اپنی مملکت کا دائرہ وسیع سے وسیع تر کرنا چاہتا ہے۔ دولت و اقتدار سے اُس کی سیرابی نہیں ہوتی۔ وہ ’’استسقاء‘‘ کے اُس مریض کی طرح ہو جاتا ہے، جو کئی مشکیزے پانی پینے کے بعد بھی خود کو پیاسا محسوس کرتا ہے۔ سیّد المرسلین ﷺ مدینۂ طیّبہ میں جن حُجروں میں سکونت پزیر تھے، وہ نہایت سادگی سے بنے ہُوئے تھے،کچّی اینٹوں اورگارے سے بنے ہُوئے چھوٹے چھوٹے کمرے تھے، جن پر کھجور کے پتّوں کا سائبان تھا۔ سادگی، قناعت پسندی اور سادہ طرزِ زندگی کے حوالے سے یہ اُسوۂ حسنہ اُس ذاتِ گرامی کا ہے، جن کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ،’’اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے یہ بات رکھی کہ میرے لیے مکّۂ مکرّمہ کے سنگ ریزوں کو سونا بنا دیا جائے، مَیں نے عرض کیا، پروردگار، میں یہ نہیں مانگتا، بلکہ یہ پسند کرتا ہُوں کہ ایک دن پیٹ بھرکر کھاؤں اور ایک دن بُھوکا رہوں، جب مجھے بُھوک لگے تو تجھےیاد کروں، اورتیرے سامنے گڑگڑاؤں اور جب میرا پیٹ بھرے تو تیری حمد اور شُکر ادا کروں۔ (ترمذی شریف) حضور نبی کریم رءوف رحیم ﷺ نے اُس شخص پر رشک کا اظہار فرمایا جس کا گزر بسر اُس کی ضرورت کے مطابق ہو، نیز آپﷺ نے اُس کی کامیابی کی خبر دی۔‘‘مزیدفرماتے ہیں:کسی دانا سے پوچھا گیا کہ غنا(امیری) کیا ہے؟اس نے کہا: غنا یہ ہے کہ تیری تمنائیں اور خواہشات کم ہوجائیں اور تو اتنے مال پر صبر اور قناعت کرے جو تجھے کفایت کر جائے۔معلوم ہوا جس کا گزر بسر ضرورت کے مطابق ہو ایسا شخص قابلِ رشک ہے کیونکہ خود حضورنبی کریم ﷺ نے اُس پر رشک فرمایا نہ صرف رشک فرمایا بلکہ اس کی کامیابی کا مژدہ بھی جاری فرمایا اور جس کی کامیابی کا مژدہ خود رسولُ اللہ ﷺ جاری فرمادیں وہ یقینا ً کامیاب ہے۔ (فیضان ریاض الصالحین حدیث 513) *کل جہاں ملک اور جو کی روٹی غذا اس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام*

اہم نکات

  • جسے ایمان کے ساتھ ساتھ قناعت کی دولت نصیب ہوگئی وہ دارین میں کامیاب ہوگیا۔
حضور ﷺ کی قناعت پسندی | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya