logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

حضور ﷺ کا مزاح(خوش طبعی)کرنا

حضور ﷺ کا مزاح(خوش طبعی)کرنا

نبی پاک ﷺ کی اخلاقی صفات

حدیث

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ لَهُ يَا ذَا الأُذُنَيْنِ قَالَ مَحْمُودٌ قَالَ أَبُو أُسَامَةَ يَعْنِي يُمَازِحُهُ۔

شمائل ترمذی (حدیث222)

ترجمہ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرمﷺ نے اُن سے فرمایا: *"يَا ذَا الأُذُنَيْنِ"* اے دو کانوں والے، حضرت محمودفرماتے ہیں کہ حضرت ابو اسامہ نے بیان کیا کہ: آپ ﷺ نے ان کے ساتھ مزاح فرمایا۔

حکایت

حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں، کہ کسی شخص نے حضور اقدس ﷺ سے درخواست کی، کوئی سواری کا جانور مجھے عطا فرما دیا جائے۔ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ ایک اونٹنی کا بچہ تم کو دیں گے، سائل نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! میں اونٹنی کے بچہ کا کیا کروں گا ؟ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ ہر اونٹ کسی اونٹنی کا بچہ ہوتا ہے۔ (شمائل ترمذی حدیث 225) حضرت حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں ایک بوڑھی عورت حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ دعا فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل فرمادے۔ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں بوڑھی عورت داخل نہیں ہوسکتی وہ عورت رونے لگی حضور اقدس ﷺ نے فرمایا اس سے کہہ دو کہ جنت میں بڑھاپے کی حالت میں داخل نہیں ہوگی بلکہ رب تعالیٰ سب اہل جنت عورتوں کو نوعمر کنواریاں بنادے گا۔ شمائل ترمذی حدیث227) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ ! آپ ہم سے مزاح فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں (مزاح میں بھی) سچی بات کے سوا کچھ نہیں کہتا۔ (شمائل ترمذی حدیث 224)

اہم نکات

  • خوش طبعی ایک بہترین صفت ہے، لیکن اس کا مقصد دوسروں کو خوشی دینا اور تعلقات کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے،نا کہ مزاق اُڑانہ
  • اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ مزاح کسی کی دل آزاری یا توہین کا سبب نہ بنے۔
حضور ﷺ کا مزاح(خوش طبعی)کرنا | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya