اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ اَبِيْ ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَيْئًا، وَلَوْ اَنْ تَلْقٰى اَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْیقٍ
(فیضان ریاض الصالحین حدیث 121)حضرت سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: کسی بھی نیکی کو حقیر نہ جانو خواہ اپنے بھائی سے خندہ پَیشانی سے ملنا ہی کیوں نہ ہو۔
جب کسی کو مسکراتا دیکھیں تو یہ دعا پڑھیئے : *"اَضْحَکَ اللہُ سِنَّک"*یعنی اللہ پاک آپ کو مسکراتا رکھے۔ جیسا کہ روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ امیرُ المؤمنین حضرت عُمر فاروقِ اعظم رضی اللہُ عنہ نے سرکارِ دو عالم ﷺ کے دربارِ گوہر بار میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی اس وقت آپ ﷺ کے پاس (ازواجِ مطہرات میں سے )قریشی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں۔ جو آپ ﷺ سے گفتگو کر رہی تھیں زیادہ بخشش کا مطالبہ کر رہی تھیں اور ان کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ جب حضرت عمر رضی اللہُ عنہ نے اجازت مانگی تو وہ جلدی سے اُٹھ کر پردے میں چلی گئیں۔ نبیِّ کریم ﷺ نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی ، جب یہ اندر داخل ہو ئے تو نبیِّ کریم ﷺ تبسم فرما رہے تھے۔ یہ عرض گزار ہوئے : *"ا َضْحَکَ اللہُ سِنَّکَ یَارَسُولَ اللہ"* (کیا بات ہے؟) آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے ان عورتوں پر تعجب ہے جو میرے پاس حاضر تھیں کہ انہوں نے جب تمہاری آواز سنی تو جلدی سے اُٹھ کر پردے میں چلی گئیں۔ (صحیح بخاری حدیث 3294) علامہ ملا علی قَاری حنفی علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں: مسلمانوں سے خُوشی ومسرت کے ساتھ ملنا بھی نیکی ہے کیونکہ یہ سامنے والے کے دل میں خُوشی پیدا کرتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی مسلمان کے دل میں خُوشی داخل کرنا نیکی ہے۔ بات کرتے ہوئے مُسکرانا سنَّت ہے۔ جی ہاں واقعی یہ سنَّت ہے۔ چنانچِہ منقول ہے کہ حضرت سیدتنا ام درداء رضی اللہ تعالٰی عنہا، حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ تعالٰی عنہ کے متعلق فرماتی ہیں کہ وہ ہر بات مُسکرا کر کیا کرتے،جب میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے جواب دیا: میں نے حسنِ اخلاق کے پیکر محبوبِ رب اَکبر ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ دوران گفتگو مُسکراتے رہتے تھے۔ (فیضان ریاض الصالحین 121) *مسکرانے کے طبعی فوائد: * 1)جب کوئی شخص مسکراتا ہے تو اس کے جسم سے اینڈریو فائن (Endrophine) نامی ایک ہارمون نکلتا ہے جو ایک قدرتی درد کش (Natural Pain Killer) دوا ہے۔ 2)ایک ریسرچ ہے کہ ایک مسکراہٹ انسانی دماغ کو دو ہزار چاکلیٹ بار سے زیادہ متحرک اور خوشگوار کرتی ہے۔ *"جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں" "اُس تبسُّم کی عادت پہ لاکھوں سلام"* شرح کلام رضا: حدائق بخشش شریف میں شامل "سلام رضا“ کے اس مصرعے ”جس کی تکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں“ کا آخری لفظ ” پڑیں اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی مدنی سوچ کا عظیم شہ پارہ ہے۔ کیوں کہ اگر پڑیں کے بجائے ” پڑے“ لکھتے تو معنا کسی ایک واقعے کی طرف اشارہ مانا جاتا ! مگر اعلیٰ حضرت نے ” پڑیں “ لکھ کر سر کار مدینہ ﷺ کی عظیم صفت بیان فرمادی۔ چنانچہ اس مصرع کا معنی ہے: حیات ظاہری میں تو تسکین دینے سے غمزدہ دلوں کی کلیاں کھل اٹھتی تھیں مگر آج بھی سرکار نامدار ﷺ جب کسی دُکھیارے کو خواب میں یا کسی غلام کو قبر میں تسلی دیتے ہیں تو وہ پر سکون ہو جاتا ہے۔ اس مصرعے میں یہ بھی اشارہ ہے کہ محشر میں بھی اپنے گنہگار امتیوں کو ڈھارس بندھا کر چین و قرار بخشیں گے دوسرے مصرعے کے معنی ہیں : اس تسکین بخش عادت کریمہ پر لاکھوں سلام ہوں۔