اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا وَمَنْ يُکَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَلَّمَهُ أُسَامَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا أَهْلَکَ الَّذِينَ قَبْلَکُمْ أَنَّهُمْ کَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَکُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا
صحیح بخاری،کتاب الانبیاء (حدیث3475)حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے روایت ہے کہ مخزومیہ خاتون (فاطمہ بنت اسود) جس نے (غزوہ فتح کے موقع پر) چوری کرلی تھی، اس کے معاملہ نے قریش کو فکر میں ڈال دیا۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس معاملہ پر رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کون کرے ! آخر یہ طے پایا کہ اسامہ بن زید آپ ﷺ کو بہت عزیز ہیں۔ ان کے سوا اور کوئی اس کی ہمت نہیں کرسکتا۔ چناچہ اسامہ نے آپ ﷺ سے اس بارے میں کچھ کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ اے اسامہ ! کیا تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں مجھ سے سفارش کرتا ہے ؟ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا (جس میں) آپ ﷺ نے فرمایا۔ پچھلی بہت سی امتیں اس لیے ہلاک ہوگئیں کہ جب ان کا کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے اور اللہ کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں۔
ایک روز رسول الله ﷺ مال غنیمت تقسیم فرمارہے تھے ایک شخص آیا اور آپﷺ پر جھک گیا۔ آپ ﷺ نے کھجور کی سوکھی شاخ سے جو آپ ﷺ کے دست مبارک میں تھی اسے ٹھوکا دیا جس سے اس کے منہ پر خراش آگئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم مجھ سے قصاص لے لو اس نے عرض کیا : يا رسول الله ﷺ میں نے معاف کر دیا۔ (سیرت رسول عربیﷺ ص 367) اللہ پاک نے عدل و انصاف قائم کرنے کی تاکید فرمائی ہے، جس کے متعلق قراٰنِ مجید میں مختلف مقامات پر ارشاد فرمایا: *"اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ"* ترجَمۂ کنزالایمان: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ (پارہ 5،النسآء:58) حضور ﷺ جنگ بدر کے لئے صف آرائی کر رہے تھے۔ حضرت سواد بن نغزئیہ انصاری صف سے آگے نکلے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے ایک تیر کی لکڑی سے ان کے پیٹ کو ٹھوک دیا اور فرمایا: *"استو یا سواد"* اے سواد! برابر ہو جاؤ۔ اس پر حضرت سواد نے حضور ﷺ سے قصاص طلب کیا آپ ﷺ نے فوراً اپنا شکم مبارک ظاہر کر دیا اور فرمایا کہ قصاص لے لو۔ (سیرت رسول عربیﷺ 367) حضرت عمر فاروق رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان کو خود پر لازم نہ کرلو ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے (1)فیصلہ کرنے میں عدل وانصاف سے کام لینا۔ (2)تقسیم کرنے میں عدل وانصاف سے کام لینا۔ اور بے شک میں تمہیں ایک واضح اور سیدھے راستے پر چھوڑکر جا رہاہوں مگر یہ کہ قوم ٹیڑھی ہوئی تو وہ راستہ بھی ان کے سبب ٹیڑھا ہوجائے گا۔ (سیرت ابن جوزی ص275)