اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مِنْ إِنَائٍ وَاحِدٍ وَکَانَ لَهُ شَعَرٌ فَوْقَ الْجُمَّةِ وَدُونَ الْوَفْرَةِ۔
شمائل ترمزی (حدیث 24)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں اور رسول اکرمﷺ ایک برتن سے غسل کیا کرتے تھے (درمیان میں پردہ ہوتا تھا) اور آپ ﷺ کے بال مبارک کندھوں سے کچھ اوپر اور کانوں سے قدرے نیچے ہوتے تھے۔
عظیم صحابئ رسول حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حجَۃ الْوَدَاع کے موقع پر حضور نبی کریم ، رءوف رَحیم ﷺ نے حلق کر وایا تو مَیں نے آپ ﷺ کے مبارک بالوں میں سے چند بال اپنے پاس رکھ لئے۔ سرکارِ عالی وقار ، مکی مدنی تاجدار ﷺ نے مجھ سے فرمایا : *مَا تَصْنَعُ بِہٰوُلَاءِ یَا خَالِدُ* اےخالد ! تم ان بالوں کا کیا کرو گے ؟ میں نے عرض کی : *اَتَبَرَّکُ بِہَا یَا رَسُوْلَ اللہ وَاسْتَعِیْنُ بِہَا عَلَی الْقِتَالِ قِتَالَ اَعْدَائِیْ* ، یارسول اللہ ﷺ! میں ان مُوئے مبارک کو بطور تبرک اپنے پاس رکھوں گا اور جنگ میں ان سے مدد حاصِل کروں گا۔ یہ سُن کر رسولِ اکرم ، نورِ مُجَسَّم ﷺ نے حضرت خالِد بن ولید رضی اللہ عنہ کے مبارک عقیدہ پر نبوی مہر لگاتے ہو ئے فرمایا : *"لَا تَزَالُ مَنْصُوْراً مَا دَامَتْ مَعَکَ"* یعنی خالد ! جب تک یہ بال تمہارے پاس رہیں گے ، ان کی برکت سے تم ہمیشہ غالِب رہو گے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس وقت سے میں نے مُوئے مبارک اپنی ٹوپی کے اگلے حِصّے میں محفوظ کر لئے ، میں جب بھی دشمنوں کے مقابلے پر جاتا ہوں تو مُوئے مبارک کی برکت سے دُشمن ہمیشہ شکست کھاتے ہیں۔ (فتوح الشام ص 258) *آقا کریم ﷺ کے بالون کی کیفیت:* سرکار عالی وقار، مدینے کے تاجدار ﷺ کے مبارک بال انتہائی حسین اور بہت خوبصورت تھے۔ نہ تو بالکل سیدھے اور نہ بہت زیادہ گھنگریالے (Curly) تھے۔ جب آپ ﷺ اُن میں کنگھی شریف فرماتے تو ایسے معلوم ہوتے جیسے ریت میں لہریں ہوتی ہیں۔ روایت میں ہے : سرکار مدینہ ﷺ کی مبارک زلفیں (Blessed Locks of Hair) کبھی آدھے کان مبارک تک تو کبھی کان مبارک کی لو تک اور بعض اوقات بڑھ جاتیں تو مبارک شانوں یعنی کندھوں کو جھوم جھوم کر چومنے لگتیں۔ بعض اوقات آپ ﷺ اپنے مبارک بالوں کے چار حصے کر دیتے اور ہر کان مبارک دو حصوں کے درمیان سے ظاہر (یعنی نکلا ) رہتا اور بعض اوقات اپنے مبارک بالوں کو کانوں پر کر لیتے جس سے آپ ﷺ کی گردن شریف چمکتی ہوئی ظاہر ہوتی۔ آپ ﷺ کے سر انور اور داڑھی مبارک میں کل 17 بال سفید تھے۔ (شمائل ترمذی)