اسلامک ڈیسک کی جانب سے


وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَلَمْ يُوَقِّرْ كَبِيرَنَا وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ
مشکاۃالمصابیح (حدیث 4970)روایت ہے ابن عباس سے فرماتے ہیں رسول الله ﷺ نے فرمایا وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے اور اچھی باتوں کا حکم نہ کرے اور بری باتوں سے منع نہ کرے۔
روایت ہے حضرت ابو طفیل سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو مقام جعرانہ میں گوشت تقسیم فرماتے دیکھا کہ ایک بی بی صاحبہ آئیں حتی کہ نبی کریم ﷺ سے قریب ہوگئیں تو حضورﷺ نے ان کے لیے اپنی چادر بچھا دی وہ اس پر بیٹھ گئیں میں نے کہا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا یہ حضور ﷺکی وہ ماں ہیں جنہوں نے حضورﷺ کو دودھ پلایاہے (سنن ابو داود حدیث 1733) حضرت عمر بن سائب کا بیان ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے کہ اتنے میں آپ ﷺ کے رضاعی باپ آئے، آپﷺ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا ایک کونہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئے، پھر آپﷺ کی رضاعی ماں آئیں آپ ﷺ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا دوسرا کنارہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئیں، پھر آپﷺ کے رضاعی بھائی آئے تو آپ ﷺ کھڑے ہوگئے اور انہیں اپنے سامنے بٹھایا۔ (سنن ابو داود حدیث 1734) *بڑوں کی شرف وعزت کی پہچان:* علامہ عبد الرؤف مناوی علیہ رحمۃ اللہ القَوِی فرماتے ہیں : ہمارے بڑوں کے شرف وعزت کو نہ پہچانے ،اس سے مراد یہ ہے کہ ۔ جس تعظیم وتکریم کے وہ لائق ہیں اس کو نہ پہچانے ۔ اور تجھ پر لازم ہے کہ تو ساری مخلوق پر رحم کرے اور ان کی رعایت کرے چاہے وہ جیسے بھی ہوں کیونکہ وہ اللہ عزوجل کے بندے اور اس کی مخلوق ہیں اگرچہ وہ گنہگار یا نافرمان ہیں ، کیونکہ جب تو ایسا کرے گا تو تیری کوشش کامیاب ہوجائے گی اور تیری شان بلند ہوجائے گی۔ (فیضان ریاض الصالحین حدیث355)