logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

آقا کریم ﷺ کا چلنا

آقا کریم ﷺ کا چلنا

نبی پاک ﷺ کے شب و روز

حدیث

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہ وَ آلہِ وَسَلَّم إِذَا مَشَی تَکَفَّأَ تَکَفُّؤًا کَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ۔

شمائل ترمذی (حدیث 118)

ترجمہ

حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ جب تشریف لے چلتے تو کچھ جھک کر چلتے گویا کہ بلندی سے اتر رہے ہیں۔

حکایت

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی چیز رسول اللہ ﷺ سے زیادہ حسین نہ دیکھی گویا سورج آپ ﷺ کے چہرے میں گردش کر رہاہے، اور میں نے کوئی شخص نہ دیکھا جو اپنی رفتار میں رسول اللہ ﷺ سے زیادہ تیز ہو گویا آپ ﷺ کے لئے زمین لپٹی جاتی تھی، رفتار کے لئے ہم اپنی جانوں کو مشقت میں ڈال دیتے تھے اور آپﷺ بغیر مشقت کے چلتے ۔ (سیرت مصطفٰی ص589) حضور ﷺ کی رفتار کی تیزی راستہ طے ہو نے کے لحاظ سے تھی نہ کہ سرکار کے چلنے کے لحاظ سے حضور انورﷺ نہایت وقار سے آہستہ چلتے تھے، مگر آپ ﷺ کے آہستہ چلنے کے باوجود راستہ جلد اور بہت زیادہ طے ہوتا ، یہ بھی حضور انور ﷺکا معجزہ تھا کہ آہستہ چلنے پر زمین زیادہ طے ہوتی تھی،بعض صوفیاء کو بھی یہ کرامت عطا ہوتی ہے اسے طی الارض کہتے ہیں، معراج میں جو حضور انور ﷺ نے طی الارض ہی نہیں کی بلکہ زمین و آسمان، عرش و کرسی،لوح و قلم سب ہی طے فرمالیے۔ جب طاقتور آدمی چلتے ہیں تو رفتار کے دوران یکدم پاؤں زمین سے اٹھاتے ہیں گو یا پاؤں کو ہیڑ رہے ہیں، حضور انور ﷺکی چال پہلی قسم کی تھی۔ تکفا کے یہ معنی ہیں جیسے انسان اوپر سے اترتے ہو ئے قدم اٹھاتا ہے حضورﷺ کی رفتار ایسی تھی۔ (مراۃ المناجیح 5795)

آقا کریم ﷺ کا چلنا | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya