اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم احْتَجَمَ وَأَمَرَنِي فَأَعْطَيْتُ الْحَجَّامَ أَجْرَهُ۔
شمائل ترمذی (حدیث 339)حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ایک مرتبہ پچھنے لگوائے اور مجھے اس کی مزدوری دینے کا حکم فرمایا میں نے اس کو ادا کیا۔
حضرت انس سے کسی نے پچھنے لگوانے کی اجرت کا مسئلہ پوچھا کہ جائز ہے یا نہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ابوطیبہ نے حضور اکرم ﷺ کے پچھنےلگائی تھی۔ آپ ﷺ نے دوصاع کھانا (ایک روایت میں کھجور بھی آیا) مرحمت فرمایا اور ان کے آقاؤں سے سفارش فرما کر ان کے ذمہ جو محصول تھا اس میں کمی کرادی اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ پچھنے لگانا بہترین دوا ہے۔ (مراۃ المناجیح) حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ گردن اور کندھے کی رگوں میں پچھنے لگواتے تھے اور عموماً 17 یا 19 یا 21 تاریخ میں اس کا استعمال فرماتے تھے۔ (شمائل ترمذی حدیث 342) روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ بہترین وہ چیز جس سے تم علاج کرو پچھنے اور قسط بحری ہے، قسط بحری جسے قسط اظفار بھی کہتے ہیں،ا ظفار ایک شہر کا نام ہے اس کی طرف نسبت ہے یہ سفید رنگ اور کم گرم ہوتا ہے۔ (مراۃالمناجیح) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ایک پچھنے لگانے والے کو بلایا جس نے آپ ﷺ کے پچھنے لگائی۔ حضور اکرم ﷺ نے ان سے ان کا روزانہ کا محصول دریافت فرمایا تو انہوں نے تین صاع بتلایا۔ حضور اکرم ﷺ نے ایک صاع کم کرادیا اور پچھنے لگانے کی اجرت مرحمت فرمائی۔ (شمائل ترمذی حدیث 341)