logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

حضور ﷺ کا پینے کا انداز

حضور ﷺ کا پینے کا انداز

نبی پاک ﷺ کے شب و روز

حدیث

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ۔

مشکاۃ المصابیح (حدیث767)

ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آبِ زمزم کا ڈول لایا تو آپﷺ نے کھڑے ہوکر پیا۔

حکایت

حضرت نزال بن سبرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس جب وہ مسجد کوفہ کے میدان میں تشریف فرما تھے۔ ایک کوزہ میں پانی لایا گیا انہوں نے ایک چلو پانی لے کر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور پھر اپنے منہ اور ہاتھوں پر مسح کیا پھر کھڑے ہوکر پانی پیا اور فرمایا کہ یہ اس شخص کا وضو ہے جو پہلے سے باوضو ہو۔ ایسے ہی میں نے حضور اقدس ﷺ کو کرتے دیکھا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضوراقدس ﷺ پانی پینے میں تین سانس لیا کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے کہ اس طریقہ سے پینا زیادہ خوشگوار اور خوب سیراب کرنے والا ہے۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بہن حضرت سیدتنا اُمِّ ثابت کبشہ بنت ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺمیرے یہاں تشریف لائے اور لٹکے ہوئے مشکیزے کے منہ سے پانی نوش فرمایا۔ پھر میں مشکیزے کی طرف اُٹھ کھڑی ہوئی اور اس کا منہ (تبرکاً) کاٹ لیا (یعنی اس حصہ کو نکال کر محفوظ کرلیا )۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدسﷺ کھڑے ہوئے پانی نوش فرما لیتے تھے۔ صحیحین کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آب زمزم کا ایک ڈول لایا گیا تو آپ ﷺنے کھڑے کھڑے اس میں سے پیا حالانکہ آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا ہے بلکہ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ سے مروی حدیث میں ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پانی نہ پئے ، اور جو پی لے تو اسے چاہیے کہ وہ قے کر دے ،ان احادیث میں تطبیق اس طرح کی گئی ہے کہ کھڑے ہو کر پینا بطور جواز ہے اورممانعت تنزیہی ہے۔ جن لوگوں نے کھڑے ہو کر پانی پینے میں رخصت دی ہے ان میں سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا سعد بن ابی وقاص ، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے نام ملتے ہیں۔ ( مراۃالمناجیح )

حضور ﷺ کا پینے کا انداز | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya