اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ وَضَعَ کَفَّهُ الْيُمْنَی تَحْتَ خَدِّهِ الأَيْمَنِ وَقَالَ رَبِّ قِنِي عَذَابَکَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ۔
شمائل ترمذی (حدیث 238)حضرت براءبن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ جس وقت آرام فرماتے تھے تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھتے تھے اور یہ دعا پڑھتے *"رَبِّ قِنِي عَذَابَکَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ:* اے اللہ مجھے قیامت کے دن اپنے عذاب سے بچا۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ جب بستر پر لیٹتے، تو *"اللَّهُمَّ بِاسْمِکَ أَمُوتُ وَأَحْيَا"* اور جب جاگتے تو یہ دعا پڑھتے، *"الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانًا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ"* (شمائل ترمذی حدیث 239) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ جب بستر پر لیٹتے تو دونوں ہاتھوں کو دعا مانگنے کی طرح ملا کر ان پر دم فرماتے تھے اور سورت اخلاص اور معوذتین (سورۃالفلق اور سورۃ الناس ) تین مرتبہ پڑھ کر تمام بدن پرسر سے پاؤں تک جہاں جہاں ہاتھ جاتا پھیر لیا کرتے تھے تین مرتبہ ایسے ہی کرتے، سر سے ابتدا فرماتے اور پھر منہ اور بدن کا اگلا حصہ پر پھر بقیہ بدن پر۔ (شمائل ترمذی حدیث 240) حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدسﷺ اگر آخری شب میں جب کچھ سویرہ ہوتا کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو دائیں کروٹ لیٹ کر آرام فرماتے اور اگر صبح کے وقت ٹھہرنا ہوتا تو اپنا دایاں بازو کھڑا کرتے اور ہاتھ پر سر رکھ کر آرام فرما لیتے۔ امام نووی علیہ رحمۃ اللہ القَوی نے فرمایا: علمائے کرام رحمہم اللہ السلام فرماتے ہیں کہ” رسول اللہﷺ اپنا مبارک ہاتھ کھڑا کر کے اُس پر سَراقدس اس لئے رکھتے تاکہ پکی نیند نہ آئے اور صبح کی نماز یا اس کا اَوَّل وقت نہ نکلے۔ علامہ ملا علی قَاری علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں: یعنی نبی کریم ﷺ جب سفر میں وقتِ سحر سے پہلے کسی جگہ قیام کر تے تو اپنی داہنی کروٹ پر لیٹتے تاکہ بدن کو راحت ملے اور جب صبح صادق سے پہلے قیام فرماتے تو اپنا ہاتھ کھڑا کر کے اُس پر سرمبارک رکھ لیتے تاکہ نیند کا غلبہ نہ ہو۔ (ریاض الصالحین) آپ ﷺ تو نبی ہیں اور نبی کا دل جاگتا ہے آنکھیں سوتی ہیں لیکن پھر بھی آپ ﷺ نماز کی کتنی فکر فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں آرام نہیں فرماتے جس میں نماز کے فوت ہونے کا خوف ہو، یقینا ًآپ ﷺ کا یہ فعل ہماری تعلیم کے لیے ہے۔ مُفَسِرشہیرمحدثِ کبیرحکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنان فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ دوران سفر میں کہیں منزل پر قیام فرماتے تو سونے کی نیت سے داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے جیسا کہ حضورِ انور کا دائمی طریقہ تھا کہ قبلہ کی رخ بستر ہوتا داہنا ہاتھ داہنے رخسار کے نیچے رکھتے داہنی کروٹ پر لیٹتے کہ اس طرح لیٹنے میں نیند غفلت کی نہیں آتی رات کو بآسانی اٹھا جاسکتا ہے۔ (مراۃالمناجیح)