logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

حضورﷺ کی زبان مبارک

حضورﷺ کی زبان مبارک

نبی پاک ﷺ کے شب و روز

حدیث

سورۃ القیامۃ (آیت 16)

حکایت

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں’’جب حضرت جبریل علیہ السّلام رسول اللہﷺ کے پاس وحی لے کر آتے تو حضورِ اَقدسﷺ حضرت جبریل علیہ السلام کے (پڑھنے کے) ساتھ اپنی زبان اور ہونٹوں کو حرکت دیاکرتے تھے اور اس سے آپ ﷺ کو تکلیف ہوتی جو کہ دوسروں کو بھی معلوم ہو جاتی تھی (اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کی یہ مشقت گوارا نہ فرمائی اور) سورہ ٔقیامہ میں یہ آیات نازل فرمائیں : *"لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ(۱۶) اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ(۱۷) فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِـعْ قُرْاٰنَهٗۚ(۱۸) ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗ"* یعنی اے حبیب! ﷺ، آپ یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیں ،بیشک اس کوآپ کے سینۂ پاک میںمحفوظ کر دینا اور آپ کی زبان پراس کا پڑھنا جاری کردینا ہمارے ذمہ ہے، لہٰذا جب ہماری جانب سے پڑھا جا چکے تواس وقت اس پڑھے ہوئے کی اِتباع کرو اور جب ہماری طرف سے کچھ نازل ہو تو اسے غور سے سنیں پھر اس کو بیان کرنا ہماری ذمہ داری ہے کہ اسے آپ کی زبان سے بیان کرا دیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں:’’اس کے بعد جب حضرت جبریل علیہ السلام آتے تو نبی ٔکریم ﷺ اپنا سرانور جھکا لیتے اور جب وہ (وحی نازل کر کے) چلے جاتے تو حضور پُر نور ﷺ اسی طرح پڑھتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا۔ ( بخاری، کتاب تفسیر القرآن، سورۃ المدثر، الحدیث: 4929) رسولِ اکرم ﷺ کی زبان مبارک بالکل آپ کے جسمِ اطہر کی طرح پاکیزہ و شفاف تھی اور آپ ﷺ کے دہن مبارک کی پاکیزگی کی بنا پر آپ ﷺ کی زبان مبارک کی نظافت بھی انتہائی اعلی درجہ کی تھی یہی وجہ ہے کہ زبان اطہر کی رنگت سرخی مائل تھی۔ چنانچہ کئی روایات میں منقول ہے کہ آپ ﷺ اپنی زبان مبارک اہلِ بیت کو چسوایا کرتے تھے اور بالخصوص ایک موقع پر حضرت امام حسنِ مجتبٰی کو آپ ﷺ نے اپنی زبان مبارک چسوائی ۔چنانچہ حضرت ابو ہریرۃ سے روایت میں منقول ہے: *"كان رسول اللّه صلى اللّٰه علیه وسلم لیدلع لسانه للحسن بن على فیرى الصبى حمرة لسانه فیبھش الیه"* رسول اکرم ﷺ حضرت حسن بن علی کے لیے اپنی زبان مبارک کو دہن اقدس سے باہر نکالتے تھے تو حضرت حسن آپ ﷺ کی زبان مبارک کی سرخی کو دیکھتے اور اس کی طرف جھپٹتے۔ ( الشمائ لترمذی،حدیث: 330) آپ ﷺ جب لسانِ رسالت سے گفتگو فرماتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے آپﷺ کے مبارک منہ سے نور کی جھڑی لگ گئی ہو ۔ مجلس کے حسب حال گفتگو فرماتے، نہ اس میں زیادہ اختصار ہوتا اور نہ ہی طوالت، بڑے بڑے فصحاء آپﷺ کی گفتگو سن کر حیران رہ جاتے اور پکار اٹھتے کہ واقعی اس منہ سے وحی الہٰی کا ہی ظہور ہوتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ اکثر طور پر امت کے بارے میں متفکر رہتے تھے ، آپﷺ نے مصروفیات اور عظیم ذمہ داریوں کی وجہ سے کبھی راحت نہیں پائی۔ آپ ﷺزیادہ ترخاموش رہتے تھے اور بلا ضرورت گفتگو نہ فرماتے ، ابتدائے کلام سے انتہائے کلام تک مکمل اور پورے الفاظ اور فقرے ادا فرماتے ،نوک زبان سے کوئی لفظ نہ کاٹتے گفتگو کرتے وقت جامع کلمات استعمال کرتے۔ چنانچہ اسی بارے میں ایک روایت میں منقول ہے: *"كلامه فصل لا فضول ولا تقصیر"* آپﷺ کی گفتگو انتہائی صاف اور واضح ہوتی۔ ضرورت سے زائد نہ ہوتی اور نہ ہی ادائیگی مقصود میں کوئی کمی ہوتی۔ (أخلاق النبىﷺ وآدابه، حدیث: 184) اسی طرح آپﷺ گفتگو اتنی ٹھہر ٹھہر کر فرماتے کہ ہر سامع اسے اچھی طرح محفوظ کرلیتا تھا۔ بعض اوقات اہم یا غیر واضح بات کو تین دفعہ بھی دہراتے۔ اُم المومنین عائشہ صدیقہ آپ ﷺ کی مبارک گفتگو کے بارے میں فرماتی ہیں کہ آپﷺ جلدی جلدی کلام نہیں فرماتے تھے اور آپﷺ کی گفتگو بڑی واضح اور صاف ہوتی تھی۔ اگر کوئی شخص آپ ﷺکی گفتگو کے الفاظ کو شمار کرنا چاہتا تو کرسکتا تھا۔ (صحیح مسلم، حدیث: 3493) نبی اکرم ﷺ اپنی امت کی خیر خواہی کے لیے ان سے زیادہ حریص تھے جس کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بھی بیان فرمایا ہے اور اسی نصیحت کے پیشِ نظر آپﷺ بعض دفعہ اپنی زبان مبارک کو اپنے دہنِ اقدس سے باہر نکالتے پھر اس کو اپنے دستِ اطہر سے پکڑ کر اشارہ فرماتے تھے تاکہ سننے والا نصیحت کی اہمیت کو دل میں جاں گزیں کر کے اس پر عمل پیرا ہوجائے اور کامیابی سے ہمکنار ہو جائے۔ چنانچہ اسی طرح کی ایک روایت میں منقول ہےکہ ایک صحابی حضرت سفیان بن عبد اللہ نے نبی کریمﷺ سے عرض کیا: *"فما أكثر ما تخاف على؟ قال: فأخذ رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم بلسان نفسه ثم قال: ھذا "* آپﷺ میرے لیے کس چیز کو زیادہ باعث خوف جانتے ہیں تو رسول اللہﷺ نے اپنی زبانِ مبارک کو پکڑا اور پھر فرمایا،اس کو۔ ( البیھقی، شعب الایمان، حدیث: 4574)

آیات

َ لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ۔

حضورﷺ کی زبان مبارک | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya