logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

رسول اللہ ﷺ کا پیالہ مبارک

رسول اللہ ﷺ کا پیالہ مبارک

نبی پاک ﷺ کے شب و روز

حدیث

عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَقَدْ سَقَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بِهَذَا الْقَدَحِ الشَّرَابَ کُلَّهُ الْمَائَ وَالنَّبِيذَ وَالْعَسَلَ وَاللَّبَنَ۔

شمائل ترمذی (حدیث 186)

ترجمہ

حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتےہیں کہ میں نے حضور اقدس ﷺ کو اس پیالہ سے ہر قسم کے شربت پلایے ۔ پانی، نبیذ، شہد، دودھ وغیرہ۔

حکایت

حضرت ثابت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےفرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے ہمیں لکڑی کا موٹا پیالہ دیکھایا جس پر لوہے کا پترا لگا ہوا تھا اور فرمایا یہ رسول اللہ ﷺ کا پیالہ ہے۔ حضرت انس کے ہاتھ میں ایک لکڑی کا پیالہ تھا ،آپ نے لوگوں کو دکھا کر فرمایا کہ اس پیالہ سے میں نے حضور انورﷺ کو بہت سی قسم کے شربت اور دودھ پلایا ہے یعنی یہ پیالہ بڑا ہی متبرک ہے کہ اسے حضور انور ﷺ کے ہاتھ اور لب بارہا لگے ہیں،آپ نے بصرہ میں لوگوں کو اس پیالہ کی زیارت کرائی ،یہ پیالہ حضرت انس کی اولاد کے پاس بطور تبرک رہا۔ معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ حضورﷺ کے استعمال شدہ برتنوں کو برکت کے لیے اپنے پاس رکھتے تھے اور لوگوں کو زیارت کراتے تھے،آنکھ والے ان چیزوں کی قدر جانتے ہیں۔ حضرت کبشہ نے مشکیزے کا وہ چمڑا کاٹ کر رکھ لیا جس سے حضور ﷺ نے پانی پیا تھا۔مثنوی میں ہے کہ حضرت جابر کے گھر وہ کپڑے کا دسترخوان تھا جس سے حضورﷺ نے ہاتھ و منہ پونچھ لیے تھے جب وہ میلا ہوجاتا تھا تو اسے آگ میں ڈال دیتے میل جل جاتا کپڑا محفوظ رہتا تھا۔ (شمائل ترمذی)

رسول اللہ ﷺ کا پیالہ مبارک | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya