اسلامک ڈیسک کی جانب سے


وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَتْ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُكَّةٌ يَتَطَيَّبُ مِنْهَا۔
مشکاۃ المصابیح (حدیث 4444)روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک کپی تھی جس سے آپﷺ خوشبو لگاتے تھے۔
عرب کی ایک مشہور خوشبو ہے جس میں بہت خوشبوئیں شامل کی جاتی ہیں مگر یہاں مراد وہ ڈبی یا کپی ہے جس میں یہ خوشبو رکھی جاتی ہے۔ روایت ہے حضرت ابو عثمان مہدی سے فرماتے ہیں رسول الله ﷺ نےفرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو خوشبو دی جائے تو اسے رد نہ کرے کہ خوشبو جنت سے آئی ہے۔ حضرت ثمامہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ خوشبو کو رد نہیں کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے کہ حضور اقدس ﷺ بھی خوشبو کو رد نہ فرمایا کرتے تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں کوئی تحفہ میں دے تو اسے نہیں لوٹانی چاہئیں تکیہ، خوشبو اور دودھ۔ خادِم النبی حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:”حضور پرنور ﷺ کے مبارَک بدن کی خوشبو سے بڑھ کر میں نے کسی عَنبر ، کستوری اور کسی چیز کو خوشبودار نہ پایا۔ (مسلم شریف) رسول کریم،رءوف رّحیم ﷺ کے جسمِ پاک سے ایسی بھینی بھینی خوشبو ( Light fragrance ) آتی تھی کہ آپ ﷺ کا جس گلی ، بازار سے گزر ہوتا ، لوگ جان لیتے کہ ابھی ابھی یہاں سے اللہ کے پیارے حبیب ﷺ گزرے ہیں جیسا کہ حضرت سیّدنا جابِر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”رسول کریم ﷺ جس راستے سے گزرتے پھر کوئی شخص اُس طرف سے گزرتا تو وہ آپ ﷺ کے پسینے کی خوشبو سے پہچان لیتا کہ پیارے آقا ﷺ یہاں سے گزرے ہیں۔“ (التاریخ الکبیر للبخاری ) روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک ظاہر ہو رنگت چھپی رہے ۔ اور عورتوں کی خوشبو ایسی ہو جس کا رنگ ظاہر ہو مہک چھپی ہوئی۔ گلاب، مشک، عنبر اور کافور وغیرہ مرد کے لیے یہ خوشبوئیں بہتر ہیں کہ ان میں رنگت نہیں مہک ہے۔ خیال رہے کہ عورت مہک والی چیز استعمال کرکے باہر نہ جائے۔ اعلیٰ حضرت ، امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ کتنے پیارے انداز سے بارگاہِ رسالت میں عرض کررہے ہیں : *"عَنبر زمیں عَبِیر ہوا مُشک تَر غُبار ! ادنیٰ سی یہ شناختْ تِری رہ گزر کی ہے"*