اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم اقْرَأْ عَلَيَّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَقَرَأُ عَلَيْکَ وَعَلَيْکَ أُنْزِلَ قَالَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَائِ حَتَّی بَلَغْتُ وَجِئِنَا بِکَ عَلَی هَؤُلائِ شَهِيدًا قَالَ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْ رَسُولِ اللهِ تَهْمِلانِ۔
شمائل ترمذی (حدیث 301)حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی کریم ﷺ نے (کچھ) قرآن پاک پڑھنے کا حکم فرمایا، میں نے عرض کیا یا رسول اللهﷺ ! کیا میں آپ کے سامنے پڑھوں حالانکہ قرآن کریم آپ پر نازل ہوا؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں دوسرے آدمی سے سننا چاہتا ہوں ، میں نے سورہ نساء پڑھی اور جب میں *وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هؤلاء شَهِيدًا *پر پہنچا تو میں نے نبی کریم ﷺ کی مبارک آنکھوں سے آنسو بہتے ہوئے دیکھے۔
اسی طرح حضرت انس سے روایت ہے: حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : نبی کریمﷺ نے حضرت زید، حضرت جعفر اور حضرت ابن رواحہ کی خبر آنے سے پہلے ان کے شہید ہوجانے کے متعلق لوگوں کو بتادیا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺنے فرمایا : اب جھنڈا زید نے سنبھالا ہوا ہے لیکن وہ شہید ہوگئے۔ پھر جعفر نے جھنڈا سنبھال لیا تو وہ بھی شہید ہوگئے۔ پھر ابن رواحہ نے جھنڈا سنبھالا ہے اور وہ بھی جام شہادت نوش کرگئے۔ یہ فرماتے ہوئے آپ ﷺکے چشمان مبارک اشک بار تھیں یہاں تک کہ ﷲ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (یعنی خالد بن ولید ) نے جھنڈا سنبھال لیا ہے اور اس کے ہاتھوں ﷲ تعالیٰ نے کافروں پر فتح مرحمت فرمادی۔ (صحیح البخاری، حدیث:3757) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺاکثر یہ دعاکرتے تھے: *"اللّٰھم ارزقنى عینین ھطالتین تشفیان الْقلب بذروف الدُّمُوع من خشیتك قبل أَن تكون الدُّمُوع دَمًا والأضراس جمرا۔"* اے اللہ مجھے ایسی زاروقطار رونے والی آنکھیں عطافرماکہ جس کے آنسووؤں سے تیرے خوف سے گرنے کی وجہ سے قلب کو شفاء حاصل ہو۔قبل اس کے آنسوخون ہوجائے اورداڑھیں ٹھیکرے کی طرح خشک ہوجائے ۔ (شمائل کبری،ص109) اُم فضل بن الحارث رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہےانہوں نے کہا :ایک دن میں امام حسین کو لے کر رسولﷲ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور میں نے انہیں آپ ﷺ کی آغو ش میں دے دیا۔ کچھ دیر بعد میں حضور نبی کریم ﷺکی طرف متوجہ ہوئی تو دیکھا آپﷺ کی چشمان مبارک آنسوؤں سے ڈبڈبا رہی تھیں پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : میرے پاس جبریل آئے اور انہوں نے مجھے خبردی کہ میری امت میرے اس فرزند کو شہید کردے گی اور میرے پاس ان کے مقتل کی سرخ مٹی لائے۔ (خصائص الکبری، ج-2، ص212) حضرت اُم المؤمنین عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں : *"رایت رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم یقبل عثمان بن مظعون وھو میت حتى رایت الدموع تسیل۔"* میں نے رسول اﷲﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺآنے حضرت عثمان بن مظعون کو بوسہ دیا جبکہ وہ فوت ہوگئے تھے ۔میں نے دیکھا کہ آپ ﷺکے آنسو بہہ رہے تھے۔ (سنن أبی داود، حدیث: 3163)