logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

حضور ﷺ کا بستر مبارک

حضور ﷺ کا بستر مبارک

نبی پاک ﷺ کے شب و روز

حدیث

عَنْ عَائِشَةَ قَالَ إِنَّمَا کَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم الَّذِي يَنَامُ عَلَيْهِ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهُ لِيفٌ۔

شمائل ترمذی (حدیث 306)

ترجمہ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کے سونے اور آرام فرمانے کا بستر چمڑے کا ہوتا تھا، جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی۔

حکایت

ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے پوچھا گیا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ ﷺکا بستر مبارک کیسا تھا ؟ انہوں نے فرمایا: چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی اس طرح ام المومنین سیدہ حفصہ رضی الله تعالٰی عنہ سے پوچھا گیا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ ﷺکا بستر کیسا تھا ؟تو انہوں نے فرمایا: ایک ٹاٹ تھا جسے ہم دوہرا (دو تہہ )کرکے نبی اکرم ﷺکے نیچے بچھا دیتے تھے۔ فرماتی ہیں کہ ایک روز مجھے خیال ہوا کہ اگر اس ٹاٹ کی دوتہوں کے بجائے چار تہیں کرلیں تو یہ زیادہ آرام دہ ہوجائے گا۔ چنانچہ ہم نے اس کی چار تہیں کردی۔ جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”آج رات تم نے میرے لیے کون سابستر بچھایا تھا؟ ہم نےکہا: بستر تو وہی تھا جو آپ ﷺ کا ہے لیکن ہم نے اس کی چار تہیں کردیں تھیں اور خیال کیا تھا کہ یہ آپ ﷺ کے لیے زیادہ آرام دہ ہوگا آپ ﷺ نے فرمایا: اسے پہلی حالت میں ہی لوٹا دو۔ اس پر سونے نے مجھےرات کی نماز سے محروم کردیا۔ (شمائل ترمذی حدیث 270) حضرت سیدہ عائشہ فرماتی ہیں میرے پاس انصار کی ایک عورت آئی، اس نے نبی اکرم ﷺ کا بستر دیکھا جو ایک کمبل کی صورت میں چمڑے کو دوہرا(دوتہہ) کر کے بچھایا ہوا تھا۔ وہ عورت گئی اور مجھے ایک ایسا لحاف بھیجا جس میں اون تھی نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اس کو دیکھا تو فرمایا: عائشہ اس کو واپس کر دو۔اللہ کی قسم ! اگر میں چاہتا تو اللہ تعالیٰ میرے ساتھ سونے اور چاندی کے پہاڑ چلا دیتا۔ (البیہقي شعب الایمان، 2 / 173) روایت ہے ام سلمہ کے بعض گھروالوں سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ کا بستر اس ہی طرح تھا جیساکہ قبر میں رکھا جاتا ہے اور مسجد آپ ﷺ کے سر کے پاس تھی، یعنی اب جو رخ حضور ﷺ کی قبر انور کا ہے کہ قبلہ کے داہنے سرہانہ اور بائیں طرف پائنتی وہ ہی رخ حضور ﷺکے بستر شریف کا ہوتا تھا بلکہ اس بستر کی جگہ قبرانور ہے اور جس کمبل شریف پر آپﷺ سوتے تھے وہ ہی کمبل شریف قبرانور میں بچھادیا گیا۔ نبی اکرم ﷺکے پیش نظر ہر وقت اخروی نعمتیں ہوتی تھیں اس لیے آپ ﷺدنیوی عیش و عشرت کو اہمیت نہ دیتے تھے ۔ رسول اللہ ﷺکی اس زہد و قناعت سے بھری زندگی کو دیکھتے ہوئے کئی مرتبہ آپﷺ کو اعلیٰ قسم کے گدے اور بستر پیش کیے گئے لیکن آپ ﷺ نے ان کو استعمال کرنا پسند نہ کیا۔ (مراۃ المناجیح)

حضور ﷺ کا بستر مبارک | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya