logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

پیارے نبیﷺ  کا اشعا ر پڑھنا

پیارے نبیﷺ کا اشعا ر پڑھنا

نبی پاک ﷺ کے شب و روز

حدیث

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ أَشْعَرُ کَلِمَةٍ تَکَلَّمَتْ بِهَا الْعَرَبُ کَلِمَةُ لَبِيدٍ أَلا کُلُّ شَيْئٍ مَا خَلا اللَّهَ بَاطِلٌ۔

شمائل ترمذی (حدیث 234)

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ حضور اقدس ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ شاعران عرب کے کلام میں بہترین کلمہ لبید کا یہ مقولہ ہے *الا کلّ شيْئ ما خَلا اللّٰهُ باطل* اللہ تعالیٰ کے علاوہ سب چیزیں باطل ہیں۔

حکایت

حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک پتھر حضور اقدس ﷺ کی انگلی میں لگ گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ خون آلود ہوگئی، تو حضور اقدس ﷺ نے یہ شعر پڑھا جس کا ترجمہ: یہ تو ایک انگلی ہے جس کو اس کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچا کہ خون آلود ہوگئی اور یہ بھی رائیگاں نہیں بلکہ اللہ عزوجل کی راہ میں یہ تکلیف پہنچی جس کا ثواب ہوگا۔ (شمائل ترمذی حدیث 234) رسول اللہﷺ سے ہم نے اپنی حیات طیبہ میں اپنی زبان مبارک سے قصداً کوئی شعر نہیں کہا کیونکہ یہ اللہ کے رسول ﷺ کے شایان شان نہ تھا۔البتہ رسول اللہ ﷺبعض اوقات کسی شاعر کا مکمل شعر یا اس کا ایک حصہ بطور نشانی ذکر کر دیتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ عمرہ القضاء کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو عبداللہ بن رواحہ (اپنی گردن میں تلوار ڈالے ہوئے حضور اقدس ﷺ کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے) آگے آگے چل رہے تھے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے۔ *خلوا بني الکفار عن سبیلہ الی قولی ۔۔۔۔۔عن خلیلہ*۔ اے کافر زادو ہٹو آپ ﷺکا راستہ چھوڑو، آج حضور اکرم ﷺ کے مکہ مکرمہ آنے سے روک دینے پر جیسا کہ تم گذشتہ سال کرچکے ہو ہم تم لوگوں کی ایسی خبر لیں گے کہ کھوپڑیوں کو تن سے جدا کردیں گے اور دوست کو دوست سے بھلا دیں گے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ابن رواحہ کو روکا کہ اللہ کے حرم میں اور حضور اکرم ﷺ کے سامنے یہ شعر پڑھتے جا رہے ہو۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عمر روکو مت یہ اشعار کفاروں اثر کرنے میں تیر برسانے سے زیادہ سخت ہیں۔ (شمائل ترمذی حدیث 232) روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ بعض شعر حکمت ہیں۔ روایت ہے عمرو ابن شرید سے وہ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ میں رسول الله ﷺ کا ایک دن ردیف بنا تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں امیہ ابن ابی الصلت کے کچھ شعر یاد ہیں۔ میں نے عرض کیا ہاں فرمایا سناؤ میں نے ایک شعر پڑھا فرمایا اور سناؤ حتی کہ میں نے آپ ﷺ کو سو شعر سنائے۔ (شمائل ترمذی) حضور انورﷺ کے تین شاعر تھے: حسان ابن ثابت، عبدالله ابن رواحہ، کعب ابن مالک، حضرت حسان کفار پر لعن طعن کے اشعار لکھتے تھے، عبدالله ابن رواحہ ان کے کفر و شرک کی برائیاں بیان کرتے تھے اور حضرت کعب ابن مالک کفار کو جنگ سے ڈراتے تھے۔

پیارے نبیﷺ کا اشعا ر پڑھنا | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya