اسلامک ڈیسک کی جانب سے


وَعَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوَ الْبَارِدَ.
مشکاۃ المصابیح (حدیث 4282)روایت ہے زہری سے وہ عروہ سے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راویت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو محبوب ترین شربت ٹھنڈا میٹھاتھا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور خالد بن ولید دونوں حضور اقدس ﷺ کے ساتھ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر گئے (ام المومنین حضرت میمونہ ان دونوں حضرات کی خالہ تھیں) وہ ایک برتن میں دودھ لے کر آئیں حضور اقدس ﷺ نے اس میں سے تناول فرمایا میں دائیں جانب تھا اور خالد بن ولید بائیں جانب آقا ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ اب پینے کا حق تیرا ہے (کہ تو دائیں جانب ہے) اگر تو اپنی خوشی سے چاہے تو خالد کو ترجیح دے دے میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کے جھوٹے پر میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ اس کے بعد حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کسی شخص کو حق تعالیٰ کوئی چیز کھلائیں تو دعا پڑھنی چاہیے۔ (شمائل ترمذی) حضور ﷺ کو عمومًا ٹھنڈا میٹھا پانی پسند فرماتے تھے،دودھ کی لسی بھی پسندتھی مگر وہ کبھی کبھی نوش فرماتے تھے لہذا یہ حدیث ان احادیث کی خلاف نہیں جن میں ہے کہ حضور انور ﷺ کو پانی میں دودھ ملا ہوا پسند تھا یا شہد سے میٹھا کیا ہوا پانی پسند تھا۔ آپ ﷺ کبھی خالص دودھ اور کبھی دودھ میں پانی ملا کر نوش فرماتے اور کبھی کشمش اور کھجور پانی میں ملا کر اس کا رَس نوش فرماتے تھے۔ (مراۃالمناجیح) کھجور،کشمش،جَو، چھوہاروں ، گیہوں یا چاول وغیرہ سے تیار کیا ہوا مشروب نبیذ کہلاتا ہے۔تاجدارِ رسالتﷺ کھجور اور کشمش کی نبیذ شوق سے نوش فرماتے تھے۔حضرت سیّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں ہم حضورِ انور ﷺ کے لئے ایک مشکیزے میں مٹھی بَھر کھجور اور کشمش ڈال کر نبیذ تیار کرتے۔ اگر ہم رات میں نبیذ بناتے تو حضورِ اکرم ﷺ دن میں اسے نوش فرماتے اور اگر دن میں بناتے تو آپ ﷺ رات میں نوش فرماتے۔ (مسند احمد،ج 9،ص301، حدیث:24263)