اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَأْکُلُ الْقِثَّائَ بِالرُّطَبِ۔
شمائل ترمذی (حدیث 187)حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں حضور اقدس ﷺ ککڑی کو تازہ کھجور کے ساتھ نوش فرماتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ تربوز کو تازہ کھجوروں کے ساتھ نوش فرماتے، اور فرماتے کہ اس کی ٹھنڈک اس کی گرمی کو، اور اس کی گرمی اُس کی ٹھنڈک کو زائل کر دے گی۔ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس ﷺ کو خربوزہ اور کھجور اکٹھے کھاتے دیکھا۔ (شمائل ترمذی) حضور ﷺ میوہ جات کے ساتھ خشک پھل یا میوہ جات استعمال فرماتے طبی نگاہ سے دیکھا جائے تو اس انداز میں بے شمار فوائد ہیں گرم میوہ جات کی حرارت کو سرد پھل کی ٹھنڈک کنٹرول کردیتی ہے اور اس میں موجود قوت جسم انسانی کو حاصل ہو جاتی ہے۔ امام قرطبی فرماتے ہیں: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کھانا اور پھل وغیرہ کھاتے وقت ان کی تاثیر اور صفات کا لحاظ رکھنا چاہیے جیسا کہ حضور ﷺ نے ککڑی اور کھجور کو ملا کرکھایا ککڑی ٹھنڈی تاثیر رکھتی ہے اور کھجور گرم ہوتی ہے تو دونوں کو ملا کر استعمال کیا گیا۔ اس طرح ان کھانوں میں اعتدال پیدا ہو جاتا ہےاور جسم کو قوت میسر آتی ہے۔ نبی کریم ﷺ تربوز شوق سے کھاتے تھے نیز آپ ﷺ نے انار اور شہتوت (Mulbery) بھی تناول فرماتے تھے۔ نبیِّ کریم ﷺ سے انگور(Grapes) کھانا بھی ثابت ہے چنانچِہ حضرت ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں: میں حضورِ اکرمﷺ کی زیارت کے لئے گیا تو دیکھا کہ آپ ﷺ انگور تناول فرمارہے تھے۔ (سبل الہدٰی و الرشاد) حضرت سیّدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں: ہم پیارے آقا ﷺ کے ہمراہ چلتے ہوئے پیلو چُن رہے تھے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو پیلو کالے ہوچکے ہیں انہیں چُننا! کیونکہ یہ بہت لذیذ ہوتے ہیں۔ جب میں بکریاں چَراتا تھا تو اسے کھایا کرتا تھا۔(مسلم)