اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وَمَا بَقِيَ عَلَی وَجْهِ الأَرْضِ أَحَدٌ رَآهُ غَيْرِي قُلْتُ صِفْهُ لِي قَالَ کَانَ أَبْيَضَ مَلِيحًا مُقَصَّدًا۔
(شمائل ترمذی حدیث 13)حضرت سعیدجریری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو الطفیل رضی اللہ تعالٰی عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، کہ حضور اقدس ﷺ کو دیکھنے والوں میں اب روئے زمین پر میرے سوا کوئی نہیں رہا۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھ سے حضور ﷺ کا کچھ حلیہ بیان کیجئے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضورﷺ کو دیکھا ہے حضور ﷺ گورے نمکین حسن والے اور میانے قد والے تھے۔
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چمکدار رنگت والے تھے آپﷺ کا پسینہ گویا موتی تھا۔ (مراۃ المناجیح حدیث 5787) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا رنگ نہایت روشن، نکھرا، کِھلا اور چمکتا ہوا تھا۔ (دلائل النبوہ ص300) حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رنگت و نگہت کے اعتبار سے (کرۂ ارض پر موجود) سب انسانوں سے زیادہ حسین و جمیل تھے۔ (سیرۃ النبویﷺص 321) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی رنگت ایسی سفید تھی کہ لگتا تھاآپﷺ کا سراپا چاندی سے ڈھالا گیا ہے۔ (دلائل النبوہ ص241) ابو نعیم اصفہانی لکھتے ہیں ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھافرماتی ہیں کہ آپ ﷺکا رنگ خالص سفید (جس میں کسی دوسرے رنگ کی آمیزش نہ ہو) نہ تھااور آپ ﷺگندمی رنگ کے بھی نہ تھے (بلکہ آپ ﷺکے چہرے کا رنگ سرخ و سفید تھا)اور یہ بھی مروی ہے کہ آپﷺ کا رنگ چمکدار تھا جس میں زردی سرخی یا کسی دوسرے رنگ کا امتزاج نہ تھا اور آپ ﷺکی تعریف کرنے والوں میں سے بعض کا خیال بھی یہی ہے۔اس لئے دونوں قولوں کے درمیان یوں محاکمہ ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ کے ظاہری اعضاء سرخی مائل سفید تھے مگر کپڑوں کے نیچے والے جسم کا رنگ چمکدار سفید تھا۔ (جس میں سرخی کی آمیزش نہ تھی) لہٰذا جس نے آپﷺ کا رنگ چمکدار سفید قرار دیا ہے وہ بھی درست ہے کیونکہ اس سے مراد کپڑوں کے نیچے کا حصہ ہے جبکہ سرخی مائل سفید قرار دینے والا بھی درست کہتا ہے اس لئے کہ دھوپ اور ہوا کے اثر سے ظاہری اعضاء میں سرخی کی آمیزش ہوگئی تھی لہٰذا آپ ﷺ کا اصل رنگ چمکدار سفیدی ٹھہرا جبکہ سرخی کا امتزاج آب وہوا کے باعث قرار پایا۔ (دلائل النبوہ ص637)