اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الْکَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ شَبَهًا لَهُ۔
صحیح بخاری ( حدیث 5912)حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺکی ہتھیلیاں اورقدم پُر گوشت تھے، آپ ﷺ کے جیسا پھر میں نے کوئی خوبصورت آدمی نہیں دیکھا۔
آپﷺ کی ہتھیلی مبارک کے بارے میں ذکر کرتے ہو ئےحضرت ابوہریرہ سے روایت ہے: *"كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم ضخم الكفین."* آپﷺ کی ہتھیلیاں گداز( پُرگوشت) تھیں۔ ( سبل الہدی والرشاد،ج-2ص 73) آپﷺ کی ہتھیلیاں ریشم سے زیادہ نرم تھیں ، آپ ﷺ کی ہتھیلیاں( مضبوط اور سخت ہونے کے باوجود)سب سے زیادہ ملائم تھیں۔ یعنی سرکار ﷺ جب کسی سے کوئی چیز کو پکڑتے تو مضبوطی سے پکڑتے اور جب کوئی ہتھیار چلاتے تو خوب شدت سے چلاتے۔ آقائے دوجہاںﷺ کی مبارک ہتھیلیوں میں نرمی اور ٹھنڈک کا احساس آپ ﷺکا ایک منفرد وصف تھا ۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: *"ما مسست حریرا ولا دیباجا قط ألین من كف رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم"* میں نے کسی ریشم ودیباج(انتہائی نرم کپڑے کی قسم) کو نہیں چھوا جو حضوراکرم ﷺکی مبارک ہتھیلیوں سے زیادہ نرم ہو۔ (سبل الھدی والرشاد،ج-2ص74) حضرت مثنی بن صالح نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے۔ *"قال: صافحت رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم فلم أر واللّٰه كفا ألین من كفه صلى اللّٰه علیه وسلم."* انہوں نے کہا: میں نے حضورﷺ سے مصافحہ کیا،بخدا میں نے کوئی ہتھیلی آپﷺ کی ہتھیلی سے نرم نہیں دیکھی۔ (سبل الھدی والرشاد،ج-2ص74) *رسول اکرم ﷺکی ہتھیلیاں مبارک ٹھنڈی تھیں* چنانچہ حضرت ابو جحیفہ سےمروی ہے: عون بن ابی جحیفہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: حضور ﷺابطح کی جانب روانہ ہو ئے تو آپ ﷺ نے ایک ڈنڈا زمین میں گاڑا(سترہ کے طورپر)اور اس کی طرف نماز ادا فرمائی۔ بعدازاں آپ ﷺ کے صحابہ نے آپ ﷺ کے ہاتھ مبارک کو اپنے چہروں پر مس کرنا شروع کر دیاپس میں بھی آیا اور آپ ﷺکاہاتھ مبارک پکڑ کر اپنے چہرے پر پھیرا تو وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ معطر تھا۔ (الوفا بأحوال المصطفىﷺ، ج-2ص 53/54) جب آپ ﷺاشارہ کرتے تواپنی پوری ہتھیلی کے ساتھ اور تعجب اور حیرانی کا اظہار کرتے تو ہتھیلی پلٹتے۔ جب باتیں کرتے تو ہتھیلی کوشامل کرتے، دائیں ہتھیلی کا اندر والا حصہ اُلٹے ہاتھ کے انگوٹھے پر مارتے۔ اور علوی کی ایک روایت میں ہے کہ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کو اُلٹے ہاتھ کی ہتھیلی پر مارتے تھے۔ (،دلائل النبوۃ،ص214)