logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

رسول اللہ ﷺ کا قلب اطہر (دل) مبارک

رسول اللہ ﷺ کا قلب اطہر (دل) مبارک

نبی پاک ﷺ کی جسمانی صفات

حدیث

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا کَيْفَ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ قَالَتْ مَا کَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَی إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ قَالَ تَنَامُ عَيْنِي وَلَا يَنَامُ قَلْبِي۔

(صحیح بخاری حدیث 3569)

ترجمہ

حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ رمضان شریف میں رسول اللہ ﷺ کی نماز (تہجد ) کی کیا کیفیت ہوتی تھی؟انہوں نے بیان کیا کہ آپ ﷺ رمضان المبارک یا دوسرے کسی بھی مہینے میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ پہلے آپ ﷺ چار رکعت پڑھتے، وہ رکعتیں کتنی لمبی ہوتی تھیں۔ کتنی اس میں خوبی ہوتی تھیں اس کے بارے میں نہ پوچھو۔ پھر آپ ﷺ چار رکعتیں پڑھتے۔ یہ چاروں بھی کتنی لمبی ہوتیں اور ان میں کتنی خوبی ہوتی۔ اس کے متعلق نہ پوچھو۔ پھر آپ ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے ، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے کیوں سو جاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔

حکایت

حضور نبی کریم ﷺکے قلب مبارک کی وسعتوں اور گہرائیوں کا اندازہ لگانا اوراس بارے میں لب کشائی کی جرات کرنا انسان کی طاقت سے باہر ہے۔ آپﷺ کا قلب مبارک اﷲ تعالیٰ کی خصوصی تجلیات وانوار کا مرکز تھا۔ سب سے اعلیٰ وحی کے نزول کا محل اور مرکز یہی قلب اطہر بنا جوتمام کائنات کے دلوں سے پاکیزہ، بہتر، نرم رقیق، وسیع وقوی اور تقویٰ و نظافت کا سرچشمہ تھا ۔ آپﷺ کا قلب اقدس کئی صفات سے متصف تھا مثلاً آپ ﷺ کا قلب مبارک صرف حالت بیداری میں نہیں بلکہ حالت نیند میں بھی بیدار رہتا تھا۔ امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے: *"عن عبداللّٰه بن مسعود قال ان اللّٰه نظر فى قلوب العباد فوجد قلب محمد صلى اللّٰه علیه وسلم خیر قلوب العباد فاصطفاه لنفسه فابتعثه برسالته ثم نظر فى قلوب العباد بعد قلب محمد فوجد قلوب اصحابه خیر قلوب العباد فجعلھم وزراء نبیه یقاتلون على دینه فما راى المسلمون حسنا فھو عنداللّٰه حسن وما راوا سیئا فھو عنداللّٰه سیئى"* حضرت عبدﷲ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ اﷲ نے بندوں کے دلوں کی طرف دیکھاتو حضور ﷺ کے قلب اقدس کو سب سے افضل پایا لہٰذا انہیں اپنی ذات کے لئے منتخب کرتے ہوئے رسالت کے لیے مبعوث فرمایا۔ پھر حضور نبی کریم ﷺکے دل کے بعد بندوں کے دلوں کی طرف دیکھا تو آپ ﷺ کے اصحاب کا دل تمام سے افضل پایا پس انہیں اپنے پیارے نبیﷺ کی صحبت عطا کی۔ انہوں نے آپ ﷺ کی خاطر خوب قربانی دی پس جس عمل کو مسلمان اچھا جانیں وہ اﷲ کے ہاں بھی اچھا ہے اور جسے مسلمان برا جانیں وہ اﷲ کے ہاں بھی برا ہے۔ (مسند احمد، حدیث: 3600) شیخ عبد الحق محدث دہلوی لکھتے ہیں کہ امام لغت حضرت اصمعی سے ایک شخص نے پوچھا ؛ حضورﷺ کے فرمان *"انہ لیغان علی قلبی"* (میرے دل پر بعض اوقات بوجھ آتا ہے) سے کیا مراد ہے تو انہوں نے فرمایا: *"اگر از غیر قلب رسول االلّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم وغین اومى پرسیدید مگیفتم انچه میدانستم اما ایں جادم نتوانم زركه حقیقت آنرا جز علام الغیوب كسے نداند" * اگر حضور ﷺ کے علاوہ کسی کے قلب اور اس پر بوجھ کے بارے میں سوال ہوتا تو اس پر گفتگو کرتا مگر یہاں میں دم نہیں مار سکتا کیونکہ آپ ﷺ کے قلب انور کے معاملہ کو سوائے اﷲ تعالیٰ کے کوئی نہیں جان سکتا۔ ( مدارج النبوۃ ،ج-1 ص19) امام دارمی روایت کرتے ہیں کہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپﷺ کے پیٹ مبارک کو چیر دیا پھر حضرت جبریل نے فرمایا: *"قلب وكیع فیه اذنان سمیعتان وعینان بصیرتان محمد رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم المقفى الحاشر خلقك قیم ولسانك صادق ونفسك مطمئنة.قال ابو محمد وكیع یعنى شدیدا"* یہ بہت زبردست دل ہے ،اس میں دو کان ہیں جو سن لیتے ہیں اور دو آنکھیں ہیں جو دیکھ لیتی ہیں۔ حضرت (سیدنا)محمدﷺ اﷲ کے رسول ہیں جو سب سے آخر میں تشریف لائے ہیں ، یہی جمع کرنے والے ہیں (اےسیدنا محمدﷺ) آپ کے اخلاق مضبوط ہیں، آپ ﷺکی زبان سچی ہے اور آپﷺ کا نفس مطمئن ہے۔ ( سنن الدارمی، حدیث:54) نبی اکرمﷺ کا قلب مبارک جماعتِ انبیاء کرام میں سے بھی سب سے قوی اور مضبوط تھا۔ یہی وہ دل اقدس تھا کہ جس کو اللہ رب العزت نے سب سے پہلے اپنے اسرار کا راز داں بنایا اور پھر اسی قلب مبارک کے وسیلہ سے دوسرے قلوب کو اپنی معرفت کا محل بنایا۔

رسول اللہ ﷺ کا قلب اطہر (دل) مبارک | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya