اسلامک ڈیسک کی جانب سے


وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهٖ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ فَإِنَّهٗ يَرْفَعُ حَتّٰى يُرٰى بَيَاضُ إِبطَيْهِ،
(مشکاۃ المصابیح حدیث 1498)روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ استسقاء کے سوا کسی دعا میں بہت اونچے ہاتھ نہ اٹھاتے۔ استسقاء میں اس قدر ہاتھ اٹھاتے کہ آپﷺ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جاتی۔
ایک دفعہ حضرت ابو موسیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کے لیے وضو کا پانی پیش کیا تو آپﷺ نے مبارک ہاتھوں کو بلند فرمایا اور آپ ﷺ نے خوش ہوکر انہیں دعا دی۔ وہ اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں: *"ورایت بیاض ابطیه"* میں نے حضورﷺ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ (صحیح البخاری،حدیث: 6020) حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ کبھی کبھی حضور ﷺدربار خداوندی میں اتنے بلند ہاتھ کرکے دعا کرتے کہ آپ ﷺکی مبارک بغلیں نظر آنے لگتیں۔ آپ ﷺ کی مبارک بغلوں کے خوشبودار ہونے کے حوالے سے بنی حریش کا ایک شخص اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں اپنے والد گرامی کے ساتھ بارگاہ نبوی ﷺ میں حاضر ہوا۔ اس وقت حضرت ماعز بن مالک کو ان کے اقرار جرم پر سنگسار کیا جارہا تھا مجھ پر خوف ساطاری ہوگیا۔ ممکن تھا کہ میں بے ہوش ہوکر گرپڑتا لیکن ایسا نہیں ہوا جسکی وجہ ان کی روایت میں مروی ہے: *"فضمنى الیه رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم فسال على من عرق ابطه مثل ریح المسك."* پس رسول کریمﷺ نے مجھے اپنے ساتھ لگا لیا (گویا گرتے دیکھ کر مجھے تھام لیا) اس وقت آپﷺ کی مبارک بغلوں کا پسینہ مجھ پر ٹپکا جو مشك کی خوشبو کی مانند تھا۔ ( سنن الدارمی، حدیث: 64) رسول اکرم ﷺکی بغلیں مبارک بے بال تھیں۔ امام قرطبی اور امام اسنوی نے شیخ طبری تحریر کرتے ہیں: *"انه لا شعر علیه"* آپﷺ کی بغلوں میں بال نہیں تھے۔ (سبل الہدی والرشاد ، ج -2ص75) امام جلال الدین سیوطی نے بھی اس بات کی تصریح کی ہے۔چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں: *"وابطه ابیض غیر متغیر اللون ولا شعر علیه"* آپﷺ کی مبارک بغلیں نہایت سفید تھیں ان کا رنگ متغیر نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی ان پر بال تھے۔ (انموذج اللیب فی خائص الحبیبص211) رسول اللہ ﷺکو اللہ نے بے مثل وبے مثال پیدا فرمایا اسی وجہ سے آپﷺ کی مبارک بغلیں بھی عام بغلوں سے ہر لحاظ سے ممتاز تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ آپﷺ کی بغلوں میں بال کی کثرت نہیں تھی اور عمومی طور کے برعکس آپ ﷺکی بغلوں میں سے خوشبو آتی تھی نہ صرف اتنا بلکہ پہلو اور ہاتھ کے ملے رہنے کی وجہ سے بغلیں عام طور پر کالی ہوجاتی ہیں لیکن رسول اللہﷺ کی بغلیں مبارک سفید(چمکدار) تھیں ۔