اسلامک ڈیسک کی جانب سے


وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرٰى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرٰى عَلیٰ فَخِذِهِ الْيُسْرٰى وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْيُمْنٰى عَلیٰ فَخِذِهِ الْيُمْنٰى وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً ثُمَّ رَفَعَ أَصْبَعَهٗ فَرَأَيْتُهٗ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ والدَارمِيْ.
مراۃالمناجیح حدیث 911)روایت ہے حضرت وائل ابن حجر سے وہ رسول الله سے راوی ہیں فرماتے ہیں کہ پھر حضورﷺ بیٹھےتو اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھا اور اپنی داہنی کہنی اپنی داہنی ران پر دراز کی دو انگلیاں بند کیں اور حلقہ بنایا پھر اپنی انگلی شریف اٹھائی میں نے آپ ﷺکو دیکھا کہ اسے ہلاتے تھے اس سے اشارہ کرتے تھے۔
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ اپنے گھر میں لیٹے تھے اپنی رانیں یا اپنی پنڈلیاں کھولے تو جناب ابوبکر نے اجازت مانگی انہیں اجازت دی اسی حالت پر انہوں نے کچھ بات چیت کی،پھر حضرت عمر نے اجازت مانگی انہیں بھی اسی حالت میں اجازت دے دی پھر انہوں نے بھی بات چیت کی،پھر جناب عثمان نے اجازت مانگی تو رسول اللہﷺ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کرلیے جب وہ چلے گئے تو جناب عائشہ نے کہا کہ جناب ابوبکر آئے آپ نے ان کے لیے نہ تو جنبش کی اور نہ ان کی پرواہ کی پھر عمر آگئے تو آپ نے ان کے لیے نہ تو جنبش کی اور نہ ان کی پرواہ کی پھر جناب عثمان آئے پھر تو آپ بیٹھ گئےاور اپنے کپڑے درست کرلیے تو فرمایا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ جناب عثمان شرمیلے آدمی ہیں مجھے خوف ہوا کہ اگر میں نے انہیں اسی حالت پر اجازت دے دی تو وہ مجھ تک اپنی حاجت نہ پہنچاسکیں گے۔ (مراۃالمناجیح حدیث 6069) حضرت ابوامامہ حارثی بیان کرتے ہیں: *"كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم یجلس القرفصاء."* رسول اﷲﷺ جب کسی مجلس میں تشریف فرما ہوتے تو رانین شکم اطہر کے ساتھ لگی ہوتیں۔ (المعجم الکبیر، حدیث:794) شیخ عبد الحق محدث دہلوی"قرفصاء" کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: *"یه نیند تكیه زده بردو زانو وچسپاند وانھارا بشكم وردرآید كفھاى ھر دو دست دربغل دست راست دربغل چب ودست چب دربغل راست."* اس طرح بیٹھنا کہ بوجھ دونوں زانوؤں پر ہو اور ران کے شکم کے ساتھ متصل دونوں ہاتھ اس طرح بغل میں ہوں کہ دایاں بائیں بغل اور بایاں دائیں بغل میں ہو۔ (اشعۃ اللمعات ،ج-4ص32) حضورﷺ کےجسم مبارک کی تابانی،تروتازگی،لچک، چمک اورہیبت وجلال کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ حضورِدوعالم ﷺجس انداز میں بھی تشریف فرما ہوتے باوقاروباکمال نظرآتے تھے۔