اسلامک ڈیسک کی جانب سے


عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَجَبَتْ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا۔
صحیح بخاری (حدیث 1375)حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ مدینہ سے باہر تشریف لے گئے، سورج غروب ہوچکا تھا، اس وقت آپ ﷺ کو ایک آواز سنائی دی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہودی پر اس کی قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔
رسول اکرمﷺ کی قوتِ سماعت عام قوتوں سے مختلف اورجداگانہ حیثیت کی حامل تھی۔ چنانچہ ایک روایت میں اس حوالہ سےیہ فرمان نبوی ملتا ہے۔ امام ابن ابی عاصم روایت کرتے ہیں: *"تسمعون ما اسمع؟ فقالوا: ما نسمع من شى. قال: انى لاسمع اطیط السماء"* کیا جو کچھ میں سنتا ہوں وہ تم بھی سنتے ہو؟ صحابہ بولے: ہم کچھ بھی نہیں سنتے۔ ارشاد فرمایا: بے شک میں آسمان سے نکلنے والی چرچراہٹ کی آواز سن رہا ہوں۔ ( الاحاد والمثانی، حدیث: 597) معلوم ہوا کہ حضورﷺ اﷲ کی عطا سے وہ کچھ دیکھتے اور سنتے ہیں جو عام لوگ نہ دیکھ سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں۔ پھر حضورﷺ نے خود وضاحت بھی فرمادی کہ وہ کیا دیکھتے اور کیا سنتے ہیں؟ آسمان جو زمین سے لاکھوں میل کی مسافت پر ہے حضور زمین پر تشریف فرماہوتے ہوئے بھی وہاں کی آوازیں سنتے اور وہاں کے حالات کو دیکھتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اﷲﷺ کے ساتھ تھے کہ آپﷺ نے گڑ گڑاہٹ کی آواز سنی۔ تو فرمایا تمہیں معلوم ہے یہ آواز کیسی تھی؟ ہم نے عرض کیا اﷲ اور اس کا رسولﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں،فرمایا۔ *"ھذا حجر رمى به فى النار منذ سبعین خریفا فھو یھوى فى النار الآن حتى انھى الى قعرھا"* یہ پتھر ہے جس کو ستر سال پہلے جہنم میں پھینکا گیا تھا۔ یہ اب تک اس میں گررہا تھا اور اب اس کی گہرائی میں پہنچا ہے۔ (صحیح مسلم، ج-4،حدیث: 2844) حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں؛ حضور نبی کریمﷺ نے صبح کی نماز کے وقت حضرت بلال سے فرمایا: مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے اسلام میں جو عمل کیے ہیں ا ن میں تم کو کس عمل پر اجر کی زیادہ توقع ہے؟ کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے جوتیوں سے چلنے کی آہٹ سنی ہے۔ حضرت بلال نے کہا :میں نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا جس پر مجھے زیادہ اجر ملنے کی توقع ہو۔ البتہ میں جب بھی دن یا رات کے کسی وقت میں وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے اتنی نماز پڑھتا ہوں جو میرے لیے مقدر کی گئی ہے۔ (صحیح البخاری ، حدیث: 1149) حضور ﷺکا سننا اور دیکھنا دوسرے انسانوں کے مثل نہیں ہے بلکہ تمام صفتوں کی طرح آپﷺ کی سمع وبصر کی قوت بھی بے مثال اور ایک معجزانہ شان رکھتی ہے ،دور دور کی آواز سن لینا یہ آپ ﷺ کے مقدس کانوں کا مشہور معجزہ ہے، چنانچہ حضرت میمونہ بیان فرماتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک رات میر ے ہاں قیام کیا آپ ﷺ وضو کے لیے اٹھے تو میں نے آپ ﷺ کو وضو کے دوران ارشاد فرماتے ہوئے سنا :میں حاضر ہوں ،مددکو پہنچا ،تمہاری مدد کردی گئی ہے۔ جب آپﷺ باہر تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: یارسول اﷲﷺ میں نے آپﷺ کو حالت وضو میں تین بار لبیک لبیک نصرت نصرت کہتے ہوئے سنا ہے۔ گویا آپ ﷺ کسی انسان سے گفتگو فرمارہے تھے۔ کیا آپ ﷺ کے ساتھ کوئی تھا؟ فرمایا:ہاں! بنی کعب کا عاجز مجھے مدد کے لیے پکارہا تھا۔ اور یہ گمان کررہا تھا کہ قریش نے ان کے خلاف بنی بکر کی مدد کردی ہے۔ (طبرانی صغیر، حدیث: 968) حضرت سید محمد بن سلیمان الجزولی الشاذلی نقل کرتے ہیں: *"وقیل لرسوللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم:ارایت صلاة المصلین علیك ممن غاب عنك ومن یاتى بعدك ما حالھما عند ك فقال: اسمع صلاة اھل محبتى واعرفھم وتعرض على صلاة غیرھم عرضا"* حضورﷺ سے عرض کیا گیا کہ ان لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمائیں جو آپﷺ سے دور ہیں اور آپ ﷺ پر درود پڑھتے ہیں اور وہ لوگ جو آپ ﷺکے ظاہری زندگی کے بعد آئیں گے ان لوگوں کا آپﷺ کے نزدیک کیا حال ہے؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا : اہل محبت کا درود تو میں خود سنتا ہوں اور ان کو پہنچانتا ہوں اور ان کا درود مجھے فرشتے پہنچاتے ہیں۔ ( دلائل الخیرات،ص24)