logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

حضور ﷺ کی ایڑیاں  مبارک

حضور ﷺ کی ایڑیاں مبارک

نبی پاک ﷺ کی جسمانی صفات

حدیث

وَعَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبَيْنِ۔

مشکاۃ المصابیح (حدیث 5784)

ترجمہ

روایت ہے حضرت سماک ابن حرب سے وہ حضرت جابر ابن سمرہ سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کشادہ منہ والے سرخ و سفید آنکھ والے پتلی ایڑیوں والے تھے

حکایت

ایک مرتبہ رسول اللهﷺن مکہ معظمہ کے ثبیر پہاڑ پر تھے اور حضور کے ساتھ ابوبکر اور عمر اور میں تھا تو پہاڑ ہلا،حتی کہ اس کے پتھر نیچے گر گئےتو اسے حضورﷺ نے اپنے پاؤں سے ایڑی ماری فرمایا اے ثبیر ٹھہر جا کہ تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔ (ترمذی شریف) امام محمد بن يوسف الصالحہ الشامی نے بھی اس حدیث کو اسی طرح ذکر فرمایا ہے۔ پھر حدیث میں موجود لفظ *منھوس* کی شرح بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: *"منھوس: أى قلیل لحم العقب."* منہوس لفظ کا معنی ہے ایڑھیوں پر گوشت کا کم ہونا۔ (سبل الهدى والرشاد، ج-2،ص78) امام ابن جوزی اور امام بغوی نے بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے،اس سے معلوم ہوا کہ حضور اقدس ﷺکی ایڑیاں موٹی اور پُر گوشت نہیں تھیں بلکہ آپ ﷺ کی ایڑیوں میں گوشت کم تھا، ایڑیاں اور پنڈلیاں ہلکی تھیں اور یہ آدمی کےحسن و جمال میں اضافے کا باعث ہے۔ (،شرح صحیح مسلم ،ص797) نبی اکرم ﷺ کے پور ے جسم مبارک کی طرح آپ ﷺکی ایڑی مبارک بھی پُر از گوشت نہ تھیں بلکہ حسن و جمال والی تھیں۔ اس طور پر کہ نہ وہ اپنے پاؤں کی اصل حد سے بڑھی ہوئی تھیں اور نہ ہی پاؤں کی ضخامت میں دبی اور چھپی ہو ئی تھیں،کیونکہ ان دونوں صورتوں میں ایڑیاں اپنے حسن سے محروم رہتی ہیں اور انسانی پاؤں عجیب وغریب نظر آتا ہے، الغرض حضور اکرم ﷺکی ایڑی مبارک آپ ﷺ کے جسم مبارک کی طرح معتدل، حسین و جمیل اور چمکتی ہوئی نظر آیا کرتی تھی۔

حضور ﷺ کی ایڑیاں مبارک | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya