logo

سیرت کی دنیا

اسلامک ڈیسک کی جانب سے

حضور پاک ﷺ کا دھن( منہ) مبارک

حضور پاک ﷺ کا دھن( منہ) مبارک

نبی پاک ﷺ کی جسمانی صفات

حدیث

عَنْ حُذَيْفَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ يَشُوْصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ.

(فیضان ریاض الصالحین حدیث 1197)

ترجمہ

حضرت سیّدنا حذیفہ رضیﷲتعالٰی عنہ فرماتے ہیں: رسولِ اکرم ﷺ جب بھی نیند سے بیدار ہوتےتودہن مبارک میں مسواک ملتے (یعنی مسواک سے منہ کو صاف فرماتے)۔

حکایت

حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن العاص رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں یاد کرنے کی غرض سے ہر اُس بات کو لکھ لیا کرتا جو حضور نبی اکرم ﷺ سے سنتا۔ اس پر قریش نے مجھے منع کیا اور انہوں نے کہا کہ تم ہر اُس بات کو لکھ لیتے ہو جو کہ سنتے ہو حالانکہ رسول اﷲ ﷺ انسان ہیں جو ناراضگی اور رضا مندی میں کلام فرماتے ہیں۔ چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا اور حضور نبی اکرم ﷺ سے اِس بات کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے انگشتِ مبارک سے اپنے ذہن اقدس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: لکھو (جو بات میرے منہ سے نکلتی ہے)، اُس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اِس منہ سے صرف حق بات ہی نکلتی ہے۔ (سنن ابو داود۔حدیث3646) رسول اکرم ﷺ کے دہن مبارک کی صفت کو بیان کرتے ہوئے حضرت ہندبن ابی ہالہ فرماتے ہیں: *"كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم ضلیع الفم"* حضور ﷺکا منہ مبارک فراخ (یعنی کشادہ)تھا۔ (الشمائل ترمذی، الحدیث:7) دہن مبارک کی اسی صفت کو حضرت جابر بن سمرہ نے بھی ذکر کیا ہے،اسی طرح حضرت جمیع سے مروی ہے : *"كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم ضلیع الفم مفلّج الأسنان"* رسول اکرم ﷺکا منہ مبارک ذرا فراخ اور دانت مبارک باہم مکمل طور پر ملے ہو ئے نہیں تھے بلکہ ان میں ذرا ذرا فاصلہ تھا اور کشادگی تھی۔ (الوفا بأحوال المصطفىٰ ﷺ، ج-2ص45) آپ ﷺکے دہن مبارک سے جو نور کی جھڑیاں لگتی تھیں ان کے بارے میں حضرت ابوقرصافہ سے مروی ہے: *"بایعنا رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم انا وامى وخالتى فلما رجعنا قالت امى وخالتى: یا بنى ما راینا مثل ھذا الرجل احسن وجھا ولا انقى ثوبا ولا الین كلاما وراینا كالنور یخرج من فیه"* جب میں، میری والدہ اور خالہ حضور نبی کریم ﷺکے دست اقدس پر بیعت کے بعد گھر لوٹے تو میری خالہ اور والدہ مجھ سے مخاطب ہوکر کہنے لگیں: اے بیٹا ہم نے آج تک چہرہ کے لحاظ سے حسین، نظافت لباس اور نرمی کلام کے اعتبار سے اس ہستی جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا اور ہم نے دیکھا کہ گفتگو کرتے وقت آپ ﷺ کے مبارک منہ سے نور کی جھڑی لگ جاتی۔ ( المواہب اللدنیہ،ج-2ص20) رسول اﷲ ﷺ کے دہن اقدس سے نکلے ہوئے سانس اور لعاب وغیرہ کی خوشبو بہتر سے بہتر عطر سے بھی زیادہ عمدہ تھی۔ چنانچہ اس حوالہ سے حضرت انس بیان کرتے ہیں: *"شممت العطر كله فلم اشم نكھة اطیب من نكھة رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم"* میں نے ہر قسم کا عطر سونگھا ہے لیکن آپ ﷺ کی مبارک مہک سے زیادہ عمدہ مہک نہیں سونگھی۔ ( طبقات ابن سعد،ص286) حضورﷺ کا دہن (منہ) مبارک بھی انتہائی درجہ کا حسین اورموزونیت کی اپنی مثال آپ تھا۔ مگریہ ذہن میں رہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کا سوکر اٹھنے کے بعد مسواک کرنا ہماری تعلیم کے لیے ہے ورنہ آپ ﷺ کے دہن مبارک میں تو ہمیشہ خوشبو ہی خوشبو ہے۔ *وہ دَہن جس کی ہر بات وحی خدا چشمۂ علم و حِکمت پہ لاکھوں سلام*

حضور پاک ﷺ کا دھن( منہ) مبارک | Shamail Tirmidhi - Seerat Ki Dunya